1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مویشیوں کو چارہ نہ ڈالنے کی سزا، بچے کا ہاتھ کاٹ دیا گیا

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے شیخوپورہ میں ایک زمیندار خاتون کی جانب سے تیرہ سالہ بچے کا ہاتھ کاٹ ڈالنے کے واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

پاکستانی مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان کے صوبے پنجاب میں واہی والا گاؤں میں شفقت بی بی نامی ایک زرعی خطے کی مالک خاتون نے ایک تیرہ سالہ بچے کا ہاتھ اس لیے کاٹ دیا کیوں کہ اس نے جانوروں کو چارہ ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان چینل جیو کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل کو بھی آئندہ 48 گھنٹے میں اس واقعہ کی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

متاثرہ بچے کا نام محمد عرفان بتایا گیا ہے جو تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر اس زمیندار خاتون کے گھر کام کر رہا تھا۔’جیو‘ کی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ دس روز قبل جب یہ بچہ شدید بھوکا تھا، اس وقت اس نے جانوروں کو چارہ ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر شفقت بی بی کو غصہ چڑھ گیا اور اس نے محمد عرفان کا ہاتھ چارہ کاٹنے والی مشین میں ڈال دیا۔

اس بچے کو ہسپتال پہنچایا گیا لیکن ڈاکٹر اس کا زخمی ہاتھ بچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ عرفان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ شفقت بی بی کے خلاف پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں لیکن پولیس رپورٹ درج نہیں کر رہی تھی۔ دس روز بعد عدالتی حکم پر اب اس کیس کی ایف آئی آر رپورٹ درج کر لی گئی ہے لیکن شفقت بی بی نے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی ہے۔