1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’موگابے صدارتی منصب سے مستعفی ہونے پر تیار ہو گئے‘

زمبابوے کے مقامی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے استعفیٰ دینے پر تیار ہو گئے ہیں۔ متوقع طور پر وہ انیس اور بیس نومبر کی درمیانی رات اپنے ایک براہ راست نشریاتی خطاب میں اہم اعلان کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز زمبابوے میں حکمران جماعت زانو پی ایف کی سینٹرل کمیٹی کے ایک اجلاس میں اراکین نے صدر رابرٹ موگابے کو پارٹی کی قیادت سے ہٹا دیا جبکہ ان کو اہلیہ گریس موگابے کو بھی پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ زمبابوے میں حکمران جماعت زانو پی ایف نے کہا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے پیر تک اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں ورنہ ان کا مواخذہ کیا جائے گا۔ ناقدین کے مطابق ترانوے سالہ موگابے کے اقتدار کا خاتمہ بہت قریب ہے۔

زمبابوے: فوج نے اقتدار سنبھال لیا

’نہ مر رہا ہوں، نہ کہیں جا رہا ہوں،‘ صدر موگابے کا اعلان

89 سالہ رابرٹ موگابے کا ساتواں دور صدارت

موگابے کی جگہ معزول نائب صدر ایمرسن منانگاگوا کو پارٹی کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔ سن انیس سو اسی میں زمبابوے کی آزادی کے بعد سے موگابے ہی اس ملک کا اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں ان کی عوامی مقبولیت میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ زمبابوے کے عوام اب ان کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے سڑکوں پر بھی نکل آئے ہیں۔

موگابے کو پارٹی قیادت سے الگ کرنے کے ساتھ ہی زانو پی ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ موگابے اپنا صدارتی منصب بھی چھوڑ دیں ورنہ جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان کا مواخذہ کیا جائے گا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملکی فوج کے موگابے کے ساتھ مذاکرات میں صدارتی استعفے کا متن تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم فوج نے اس حوالے سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ موگابے باعزت طریقے سے صدارتی عہدے سے الگ ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے ہی ملکی فوج نے ملک کا اقتدار سنبھالتے ہوئے صدر موگابے کو ان کے گھر نظر بند کر دیا تھا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر ہوئی تھی جب موگابے نے پارٹی مطالبات کے باوجود اپنی سیاسی جماعت کی قیادت سے الگ نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے نائب صدر کو برطرف کر دیا تھا۔

گزشتہ 37 برسوں سے برسراقتدار موگابے نے اگر اپنے عہدے سے علیحدگی اختیار نہ کی تو پیر کی دوپہر کو ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف موگابے کی اہلیہ گریس مگابے کو پارٹی سے بےدخل کرنے کے باعث اب ایسے امکانات بھی ختم ہو گئے ہیں وہ موگابے کی جگہ ملک کی نئی سربراہ بن سکتی ہیں۔

DW.COM