1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

موٹاپے کی اگلی نسل میں منتقلی کا راز

فرانس میں کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے کہ زیادہ کھانا اور خوراک میں روغنی اجزاء کا غیر معقول امتزاج موٹاپے کے اہم اسباب ہیں جو آنے والی نسل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

default

یونیورسٹی آف نائس صوفیہ اینٹی پولس سے وابستہ حیاتیاتی کیمیاء دان گیرارڈ ایل ہاؤڈ کے بقول پہلی بار موٹاپے کی اگلی نسل میں منتقلی کا ایک بنیادی سبب معلوم ہوسکا ہے۔ تحقیق کے مطابق اومیگا چھ اور اومیگا تین انسانی صحت کے لئے اہم ہیں تاہم انسانی جسم میں ان میں سے ایک کا زیادہ ہوجانا اور دوسرے کا کم رہنا موٹاپے کا سبب بنتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں مغربی دنیا کی خواتین میں یہ تناسب بگڑ گیا ہے۔ اومیگا چھ اور اومیگا تین کا کسی صحت مند جسم میں توازن پانچ، ایک ہونا چاہئے تاہم بیشتر یورپی خواتین میں یہ تناسب پندرہ، ایک اور امریکہ میں چالیس، ایک تک پہنچ گیا ہے۔

China Landwirtschaft Milchbauern

جانداروں کے گوشت اور دودھ میں اومیگا کا توازن قائم رکھنے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ انہیں چارے کے ساتھ تیل ملا کر دیا جائے

محققین کے مطابق امریکی خواتین کے دودھ میں یہ تناسب چھ، ایک سے بڑھ کر اٹھارہ، ایک ہوگیا ہے۔ اس سے قبل اسی تحقیق کا دل کے عارضے سے تعلق ظاہر کیا گیا تھا۔ گیرارڈ ایل ہاؤڈ کے مطابق اومیگا چھ چربی کے ایک بم کی مانند ہے۔ ماہرین میں اب بھی اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ آیا موٹاپے کا تعلق جسم میں چربی کے تناسب سے ہے یا پھر کیلوریز کی مقدار سے۔ امریکی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق سے اس بحث میں نیا اضافہ ہے۔ گیرارڈ ایل ہاؤڈ کا کہنا ہے کہ اومیگا کے عدم توازن اور موٹاپے کا تعلق جسم کے اندر اس پیچیدہ عمل سے جڑا ہے جس میں انسانی خلیوں کے اندر کی معلومات کیمیائی عمل میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔

Genmanipulierte Mäuse

تجربے کے لے لئے چوہوں کا استعمال کیا گیا

تجربے کے طور پر چوہے کی تین نسلوں کو اومیگا کی عدم توازن والی خوراک دی گئی، جو مغربی ممالک میں عام ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر آئندہ پیدا ہونے والا چوہا پچھلے کے مقابلے میں زیادہ موٹا تھا۔ تحقیق کے مطابق چوہوں کے ڈی این اے پر تو زیادہ اثر نہیں ہوا تاہم اس خوراک سے ان کے ایسے خلیوں پر کچھ فرق ضرور پڑا جو آنے والی نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ چوہوں کے اندر انسولین کے خلاف مدافعت میں بھی اضافہ ہوا جو ذیابیطس کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

مغربی باشندوں میں اومیگا چھ کی کمی اور اومیگا تین کی زیادتی کی وجہ مال مویشی کے چارے میں بدلاؤ سے بھی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں مویشیوں کے چارے میں گھاس کے بجائے اناج کی مقدار بڑھ گئی ہے۔

گھاس میں اومیگا تین پایا جاتا ہےجبکہ اناج میں اومیگا چھ پایا جاتا ہے۔ جانداروں کے گوشت اور دودھ میں اومیگا کا توازن قائم رکھنے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ انہیں چارے کے ساتھ تیل ملا کر دیا جائے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM