1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مونٹینیگرو کو نیٹو کا رکن بننے کی پیشکش، روس کا شدید ردعمل

روسی انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے سابق کمیونسٹ ریاست مونٹینیگرو کو اس عسکری اتحاد کا رکن بننے کی دعوت دے دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی بتایا ہے کہ بدھ کے دن نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے موٹینیگرو کی اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ’’یہ انتہائی اہم ہے کہ یہ دوبارہ واضح کر دیا جائے کہ تمام ممالک کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے راستے کا خود انتخاب اور اپنے دفاع کے لیے خود انتظامات کر سکے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی طرف سے مونٹینیگرو کو کی گئی یہ پیشکش کسی ملک کو اشتعال دلانے کے لیے نہیں کی گئی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ مونٹینیگرو جب سولہ برس قبل سابق یوگوسلاویہ کا حصہ تھا تو نیٹو نے ہی اسے کوسووو جنگ کے دوران بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ مونٹینیگرو کے نیٹو کا رکن بننے کے سلسلے میں مذاکرات اور اصلاحات کا سلسلہ ایک برس تک چل سکتا ہے، جس کی کامیابی کے نتیجے میں ہی اس ملک کو رکنیت ملے گی۔ چھ برسوں بعد پہلی مرتبہ نیٹو نے کسی ریاست کو رکن بنانے کی بات کی ہے۔ اس سابق کمیونسٹ ملک کی آبادی تقریبا ساڑھے چھ لاکھ ہے جبکہ ملکی فوج کی تعداد تقریبا دو ہزار ہے۔

روس نے خبردار کیا ہے کہ مونٹینیگرو نیٹو اتحاد میں رکنیت سے مشرقی بلقان کے علاقوں میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ ماسکو نے اس پیشرفت سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یوں ہوا تو اس کے سخت نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔

روسی سینیٹر وکٹوراوزروف نے کہا ہے کہ اگر موٹینیگرو نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت اختیار کی تو اس سے تمام رابطے ختم کر دیے جائیں گے۔ نیوز ایجنسی روئٹز نے اس سینیٹر کے حوالے سے کہا ہے کہ نیٹو کا رکن بننے کے بعد اس سابق کمیونسٹ ریاست کے ساتھ جاری تمام مشترکہ منصوبے ختم کر دیے جائیں گے۔ نیٹو رکن ممالک کے وزرائے خزانہ نے مونٹینیگرو کو اس عسکری اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔

Belgien Nato-Außenministertreffen Jens Stoltenberg

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے موٹینیگرو کی اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے

مونٹینیگرو کے وزیر خارجہ ایگور لوکسِک نے نیٹو کی پشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے حالیہ عرصے میں مغربی اقدار کو اپنی معاشرے کا حصہ بناتے ہوئے یہ بات باور کرائی ہے کہ وہ نیٹو کا رکن ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے وطن اور عسکری اتحاد کے لیے یہ ایک بڑا دن ہے۔ یہ خبر مغربی بلقان کے لیے ایک اہم خبر ہے، جس سے اتحاد مضبوط ہو گا اور سکیورٹی میں بہتری آئے گی۔‘‘

مونٹینیگرو نے حال ہی میں روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے نیٹو کی رکنیت کے حوالے سے مذاکرات شروع کے بعد وہاں حکومت مخالف عناصر کی پشت پناہی کی تھی، جس کی وجہ سے تشدد رونما ہوا تھا۔

فی الحال مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک کی کل تعداد اٹھائیس ہے۔ مونٹینیگرو کے اس اتحاد میں شامل ہونے سے یہ تعداد انتیس ہو جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق کمیونسٹ ریاستوں میں سے زیادہ تر نیٹو میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں۔