1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مولن کے بیان سے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، پاکستان

پاکستان نے امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ امریکی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان میں شامل بعض عناصر نے سلیم شہزاد کو ہلاک کرنے کی اجازت دی تھی۔

default

آج اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایڈمرل مولن کے ’’افسوس ناک‘‘ بیان سے پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات مزید مسائل اور مشکلات کا شکار ہوں گے۔ بیان کے مطابق حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں پہلے ہی ایک غیر جانبدار، آزاد اور خود مختار کمیشن تشکیل دے دیا ہے، جس نے عوام سے بھی ثبوت سامنے لانے کی اپیل کر رکھی ہے۔

کمیشن کے مطابق کوئی بھی بیان کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کے مترادف سمجھا جائے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کچھ طاقتیں اس معاملے کو پاکستان اور اس کی جمہوری حکومت کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ اس بارے میں افسوس کا اظہار کیے جانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے بھی ایڈمرل مولن کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’یہ پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات کو مسائل اور مشکلات کا شکار کرے گا اور اس پر مزید بیان دفتر

Syed Saleem Shahzad

مقتول صحافی سلیم شہزاد

خارجہ کے ترجمان دیں گے۔ اور اس پر یقیناً دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہماری مشترکہ کاوشوں کو دھچکا لگے گا۔‘‘

ادھر بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا بیان پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے توجہ ہٹانے کی ایک وجہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور چند سینئر صحافیوں نے سلیم شہزاد کے قتل میں آئی ایس آئی کو ملوث قرار دیا تھا۔ تاہم اب امریکی فوج کے سربراہ کے اس بیان کے بعد وقتی طور پر آئی ایس آئی سے توجہ ہٹ سکتی ہے اور پھر امریکی انتظامیہ آئی ایس آسی سے شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن میں بھرپور تعاون کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈمرل مولن کا بیان پاکستان میں جاری کمیشن کے کام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل رمضان چوہدری کا کہنا ہے، ''چونکہ ہمارا خود مختار کمیشن جو عدالت نے قائم کیا ہے وہ اس کی تحقیقات کر رہا ہے تو اس کے فیصلے اور رپورٹ کا انتظار کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اس مرحلے پر ایسے بیانات کمیشن کی کارروائی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ اس میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں اور ایسے موقع پر ان کا یہ بیان انتہائی نا مناسب اور غیر ضروری ہے۔‘‘

صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کرنیوالے کمیشن کا اجلاس کل (ہفتے ) کو اسلام آباد میں ہوگا۔ اس اجلاس میں ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن سمیت 16 سینئر صحافیوں کو بیانات قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM