1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مولانا عبدالعزیز نیشنل ایکشن پلان کی پہنچ سے دور کیوں؟

پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یوم دفاع کی ایک تقریب سے اپنے خطاب میں نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے زور دیا تاہم ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آخر لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کیوں اس کی زَد میں نہیں آ رہے۔

Maulana Abdul Aziz verhaftet

لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کئی بار شدت پسند ملیشیا داعش کی کھلم کھلا حمایت کر چکے ہیں لیکن حکومت اُن پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے

ایک روز قبل اس تقریب میں جنرل راحیل شریف نے یہ بھی کہا کہ نظامِ انصاف میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے اور ایسی اصلاحات کی جانی چاہییں، جن سے کرپشن، منظم جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑا جا سکتا ہو۔

پاکستان میں کئی تجزیہ نگار وں نے آرمی چیف کے اس بیان کو سراہا ہے لیکن کئی ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اس پلان کا ایک اہم نکتہ کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کی پکڑ بھی ہے۔ اس کے علاوہ نفرت آمیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف اقدامات بھی اس پلان کا حصہ ہیں لیکن پاکستان کی سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان نکات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اب صرف نجی محفلوں میں ہی نہیں اٹھ رہے بلکہ پاکستان کی پارلیمان میں بھی اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

منگل کو ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل سید طاہر مشہدی نے ایک تحریک التوا پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد سکیورٹی فورسز کی طرف سے لال مسجد میں انتہا پسند عناصر کے خلاف ایک مجوزہ آپریشن کی حمایت کرنا تھا لیکن اسٹیٹ منسٹر برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے ایسے کسی آپریشن کو محض قیاس آرائیوں پر مبنی اور فرضی قرار دے دیا۔ ناقدین کے خیال میں بلیغ الرحمان کی مخالفت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حکومت لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف اقدامات اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

حالیہ برسوں میں مولانا عبدالعزیز سول سوسائٹی کی مخالفت کی زد میں رہے ہیں۔ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے جبران ناصرنے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مولانا عبدالعزیز کے خلاف چار تحریری شکایات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے داعش کی حمایت کی، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو سنگین دھمکیاں دیں اور نفرت انگیز تقاریر کیں۔ نفرت انگیز تقریر اور داعش کی حمایت کرنے پر ہم نے قانونی راستہ اختیار کیا لیکن پولیس نے اس پر ابھی تک ایف آئی آر تک نہیں کاٹی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ پانچ مہینے سے حکومت سے پوچھ رہی ہے کہ ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی گئی لیکن حکومت نے ابھی تک جواب نہیں دیا، جس سے آپ اِن کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک مقدمہ ایسا بھی ہے، جس میں حکومت نے خود مولانا عبدالعزیز کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر کاٹی اور پھر اسے وا پس لے لیا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اوکاڑہ میں چار سو کسانوں کے خلاف تو مقدمات نیپ کے تحت درج ہوتے ہیں لیکن حافظ سعید، حقانی نیٹ ورک، سپاہ صحابہ اوردیگر کالعدم تنظیمیں اس سے بچی رہتی ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ تو ریاست کی ناک کے نیچے ’سی پیک‘ کے حق میں ریلیاں نکالتی ہے۔‘‘

Mitglieder von Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP)

مولانا عبدالعزیز (دائیں) کو اُس کمیٹی کا بھی رکن بنایا گیا تھا، جو طالبان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے مقرر کی گئی تھی

کرنل مشہدی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مولانا عبدالعزیز داعش، طالبان، القاعدہ، لشکر جھنگوی اور دیگر کئی دہشت گرد تنظیموں کا حامی رہا ہے۔ ملک میں نیشنل ایکشن پلان چل رہا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں اور مولانا عبدالعزیز شہر کے مرکز میں بیٹھا ہوا ہے، اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ اس ملک کی پارلیمنٹ دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑی ہوئی، اس سلسلے میں قانون سازی بھی کی گئی۔ سیاسی جماعتوں نے بھی حکومت کا ساتھ دیا، اب حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں کہ وہ اُن کے خلاف ایکشن نہ لے۔ لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ حکومت اس مولوی کے خلاف اقدامات کیوں نہیں کر رہی۔ وہ کھلم کھلا داعش کی حمایت کر رہا ہے۔ اُس کے مدرسے کی طالبات داعش کو آنے کی دعوت دے رہی ہیں لیکن حکومت خاموش ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’میں نے کل حکومت سے پوچھا کہ لال مسجد کے مُلّا کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا تو حکومت خاموش رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ منسٹر برائے داخلہ اور وزیر داخلہ کا لال مسجد کے مولوی کے لیے نرم گوشہ ہے۔‘‘

مسلم لیگ نون کے رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق نے حکومتی موقف دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرے خیال میں حکومت مولانا عبدالعزیز کے خلاف کوئی کارروائی کر تو رہی ہے لیکن وہ اس کو بیان نہیں کر رہی۔ آج وزیر داخلہ اس حوالے سے ایوان میں بیان دیں گے۔‘‘