1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مولانا شیرانی پھر خبروں میں

اسلامی نطریاتی کونسل کے چیئرمین کی اہلیت کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کے استاد معین حیات چیمہ نے معزز عدالت میں اس حوالے سے جمعے کو ایک پٹیشن دائر کرائی ہے۔

درخواست گزارکے وکیل مرزا شہزاد اکبر نے پٹیشن کے قانونی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’پٹیشن میں پہلا قانونی نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کا کسی ایسے ادارے میں تقرر نہیں کیا جاسکتا، جو حکومت کے ماتحت ہو۔ جب شیرانی صاحب کو اِس ادارے کا چیئرمین بنایا گیا تو وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے۔ لہٰذا قانونی طور پر ان کا یہ تقرر درست نہیں تھا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ چیئرمین کے لیے کچھ شرائط ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، اُس نے تقابلِ مذہب پر کوئی کام کیا ہو یا کوئی تحقیقی مقالہ لکھا ہو۔

اِس ادارے میں ماضی میں کئی سربراہ ایسے رہے ہیں، جن کی علمی قابلیت جانی پہچانی تھی۔ انہوں نے تحقیقی کام بھی کیا تھا یا تقابلِ مذاہب پر انہوں نے کچھ لکھا تھا۔ شیرانی صاحب کے پاس نہ کوئی سند ہے اور نہ ہی انہوں نے تقابلِ مذاہب پر کوئی کام کیا اور نہ کوئی تحقیقی مقالہ لکھا۔ اوگرا، چیئرمین نیب، اوجی ایل ڈی سی سربراہ سمیت کئی مقدمات میں سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ صدر کے پاس اداروں کے سربراہ مقرر کرنے کا اختیار ہے لیکن اُنہیں اِس اختیار کو منصفانہ انداز میں استعمال کرنا ہے اور اہلیت کے لیے مقرر کردہ ضابطوں کو پیشِ نظر رکھنا ہے۔ ہمارے خیال میں ان ضابطوں کو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا اور شیرانی صاحب کو سیاسی بنیادوں پر اِس ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔‘‘

مولانا شیرانی اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے سول سوسائٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے اُن کے اِس بیان نے، کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مرد عورت کی معمولی پٹائی کرسکتا ہے، پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں ہلچل مچادی تھی۔ اس کے علاوہ ڈی این اے اور کم عمری کی شادی سمیت کئی اہم موضوعات پر بھی اُن کی رائے کو اُن کے ناقدین نے انتہائی متنازعہ قرار دیا تھا۔


معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’اسلامی نظریاتی کونسل میں تقرر سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس کی سربراہی کسی ایسے شخص کے پاس ہو جو مذہب، جدیدیت، سیاست اور جمہوری فلسفے پر عبور رکھتا ہے اور جدت پسند ہو۔ مولانا شیرانی قدامت پسند ہیں اور اپنے نظریات کے حوالے سے بہت سخت گیر سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کے بیانات نے اسلامی نظریاتی کونسل کو متنازعہ بنا دیا ہے اور انہوں نے رِبا اور بینکاری سمیت کئی اور اہم مسائل پر کوئی ایسے شاہکار فیصلے نہیں دیے، جس کو قابل ستائش کہا جائے۔‘‘


جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکڑ سید عالم محسود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’قائد اعظم کی گیارہ اگست کی مشہور تقریر کے بعد آئین میں ایسے کسی ادارے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ اس تقریرمیں جناح صاحب نے تما م شہریوں کو برابر قرار دیا تھا۔ مجھے بتائیں کہ اس کونسل میں کیا کوئی غیر مسلم پاکستانی ہے۔ اس میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں لیکن برتری کسی ایک فرقے والوں کی نظر آتی ہے۔ کونسل کے سربراہ کے متنازعہ بیانات سے صرف اس ادارے کی بے توقیری نہیں ہوتی بلکہ ملک کی بھی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے مذہبی رجعت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ شیرانی کے خلاف پٹیشن دائر ہوگئی ہے لیکن اس ملک میں بنیاد پرستوں کے خلاف نہ کبھی کوئی ایکشن لیا گیا ہے اور نہ لیا جائے گا۔

DW.COM