1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مولانا ریڈیو کی پاکستان کو دھمکی

طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے افغانستان سے لوٹنے کا عندیہ دیتے ہوئے وادئ سوات میں ’نئی جنگ‘ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پاکستان کے دورے پر ہیں۔

default

مولوی فضل اللہ کا یہ بیان خبر رساں ادارے روئٹرز کے جانب سے تحریری سوالوں کے ردِ عمل میں سامنے آیا ہے۔ اس نے شدت پسندوں کے ساتھ امن مذاکرات پر بھی شبہات کا اظہار کیا ہے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ اس کے سوالوں کے جواب میں ترجمان سراج الدین احمد نے مولوی فضل اللہ کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا: ’’ہم نے اپنی جانیں قربان کیں، شریعت کے لیے اپنے گھر چھوڑے، گاؤں چھوڑے۔ اب نہ صرف مالاکنڈ کے علاقے بلکہ پورے پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے جو کچھ کرسکتے ہیں، ہم کریں گے۔‘‘

سراج الدین نے کہا: ’’امریکہ کے ساتھ تعلقات بگڑنے پر پاکستانی حکمران ہمیشہ بعض لوگوں کے ذریعے ہم سے رابطہ کرتے ہیں اور ملک میں امن کی بحالی کے لیے مدد کی اپیل کرتے ہیں، لیکن جب تعلقات ٹھیک ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے وعدے بھول جاتے ہیں۔‘‘

طالبان کی یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اعلیٰ فوجی عہدے داروں کے ساتھ پاکستان کے دورے پر ہیں۔

فضل اللہ سوات میں پاکستانی طالبان کا رہنما تھا اور دو ہزار نو میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں سے فرار ہو گیا تھا۔ اسے ایف ایم مُلا (مولانا ریڈیو) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

Pakistan Militärsprecher Athar Abbas in Rawalpindi

پاکستانی فوج کے ترجمان اطہر عباس

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان جا کر اپنے گروپ کو پھر سے منظم کیا اور ٹھکانے بنائے اور ایک مرتبہ پھر پاکستان کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

پاکستانی طالبان افغان طالبان سے علیحدہ ہیں لیکن افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف لڑائی میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے خطے میں شدت پسندوں کے خلاف امریکی قیادت میں جاری جنگ میں معاونت پر پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں شکایت کی تھی کہ افغان اور امریکی فورسز فضل اللہ کو نشانہ بنانے میں ناکام رہی ہیں جو سرحد پار کئی حملوں میں ملوث ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس