1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موغادیشو میں پھر حملے، متعدد افراد ہلاک

صومالی دارالحکومت موغادشیو میں دو دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک کار خود کش حملہ بھی تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے صومالی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اٹھائیس اکتوبر بروز ہفتہ موغادیشو کے ایک مقبول ہوٹل کے نزدیک ہی ایک کار خود کش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں درجن بھر افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ ہوٹل ملکی ایلیٹ میں کافی مقبول ہے جبکہ اس کے قریب ہی صدراتی محل واقع ہے۔

موغادیشو حملہ، ہلاکتیں 300 ہو گئیں، عالمی برادری کی مذمت

موغادیشو میں خودکش ٹرک حملہ، 231 ہلاک

موغادیشو میں عسکریت پسندوں کا حملہ، کم از کم ڈیڑھ درجن ہلاک

حکام نے بتایا ہے کہ اس خودکش حملے کے کچھ منٹوں بعد ہی اسی علاقے میں ایک اور دھماکا بھی ہوا جبکہ ہوٹل کے اندر فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان حملوں کی وجہ سے کم ازکم سولہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم اندیشہ ہے کہ زخمی یا ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ  ہو سکتا ہے۔

موغادیشو کے پولیس اہلکار کپٹن محمد حسین نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ ناسا ہابلوڈ ہوٹل کے باہر دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک اعلیٰ پولیس اہلکار اور سابق ممبر پارلیمان بھی شامل ہیں۔ شدت پسند تنظیم الشباب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس گروہ کے جنگجو ہوٹل میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:29

صومالیہ میں حملہ، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

دو ہفتے قبل ہی اس شورش زدہ ملک کے دارالحکومت موغادیشو میں خونریز حملے کی وجہ سے ساڑھے تین سو افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس حملے کو اس ملک کی تاریخ کا بدترین حملہ قرار دیا گیا تھا۔ الشباب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ موغادیشو کے ہائی پروفائل علاقوں کو نشانہ بنائیں۔ تاہم اس گروہ نے دو ہفتے قبل موغادیشو میں ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

صومالیہ میں الشباب کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد صدر محمد عبداللہ محمد نے اس گروہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے حالیہ عرصے کے دوران ہمسایہ ممالک کا دورہ بھی کیا تاکہ اس عسکری کارروائی میں علاقائی سطح پر تعاون حاصل کیا جا سکے۔

یہ امر اہم ہے کہ صومالیہ میں افریقی یونین کے بائیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ تاہم مینڈیٹ ختم ہو جانے کے باعث یہ سن دو ہزار بیس میں واپس بلا لیے جائیں گے۔ اس صورتحال میں امریکی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ صومالی سکیورٹی دستے ملک کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ساتھ ہی امریکی فوج نے حالیہ عرصے کے دوران اس افریقی ملک میں ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic