1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل کے قریب ایک اہم شہر پر عراقی فورسز کا قبضہ

عراقی فوج نے دفاعی لحاظ سے اہم قصبے القیارہ سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے۔ القیارہ پر قبضہ شدت پسند ملیشیا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے گڑھ موصل پر مستقبل میں کیے جانے والے کسی بھی حملے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

موصل کو عراق میں اسلامک اسٹیٹ یا داعش نامی شدہ پسند گروپ کا آخری مضبوط ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق القیارہ کا کنٹرول حاصل ہونے کے بعد موصل کو داعش سے آزاد کروانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ موصل سے ساٹھ کلومیٹر جنوب کی جانب واقع اس قصبے پر عراقی فوج کے قبضے کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے القیارہ پر عراقی فورسز کے قبضے کو اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کے خلاف کامیابی میں اہم قدم قرار دیا ہے۔

دریائے النمر کے کنارے آباد اس شہر پر تین روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد کنٹرول حاصل کیا گیا۔ اس لڑائی کے دوران عراقی فورسز کو امریکی سربراہی میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ القیارہ پر عراقی فورسز کے قبضے کے بعد وہاں کے رہائشیوں کی طرف سے خوشی کا اظہار کیا گیا اور عراقی فورسز کا خیر مقدم کیا گیا۔

عراق کی زمینی افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریاض جلال توفیق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اس کامیابی کے بعد القیارہ میں بتایا، ’’شہر کے تمام حصوں پر ہمارا کنٹرول ہے اور ہم نے بہت کم وقت میں یہاں سے داعش کو نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انجینیئرنگ کور کے دستے اب شہر کو بارودی سرنگوں اور ایسے اسلحے سے صاف کرنے میں مصروف ہیں جو پھٹا نہیں ہے۔

ملکی پارلیمان کی طرف سے وزیر دفاع خالد العبیدی کو بدعنوانی کے الزامات کے باعث ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

ملکی پارلیمان کی طرف سے وزیر دفاع خالد العبیدی کو بدعنوانی کے الزامات کے باعث ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

عراقی انسدادِ دہشت گردی ایجنسی کے کمانڈر عبدالغنی الاسدی نے بتایا کہ قیارہ پر قبضے کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو سو پچاس عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

عراقی وزیر داخلہ کی عہدے سے برخاستگی

ایک طرف عراقی فورسز کو القیارہ میں کامیابی ملی تو دوسری طرف عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کو سیاسی حوالے سے ملکی پارلیمان میں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہ شکست ملکی پارلیمان کی طرف سے وزیر دفاع خالد العبیدی کو بدعنوانی کے الزامات کے باعث ان کے عہدے سے ہٹایا جانا ہے۔

بدعنوانی کے الزامات کے باعث پارلیمان میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جسے 102 کے مقابلے میں 142 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ العبیدی اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ارکان پارلیمان کی طرف سے العبیدی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے کئی بلین ڈالرز ضائع کر دیے اور وہ فوج کو اس قدر کمزور کرنے کے ذمہ دار ہیں کہ وہ 2014ء میں داعش کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔