1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل کے جہادیوں کے لیے اب راہِ فرار موجود نہیں، عراقی فوج

عراقی فوج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل کے تین مزید علاقوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ اس وقت عراقی فوج شہر کے اندر جہادیوں کو پسپا کرتے ہوئے مرکزی شہر کے نزدیک ہوتی جا رہی ہے۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی اپنا یہ دعویٰ کئی مرتبہ دہرا چکے ہیں کہ رواں برس کے اختتام سے قبل موصل کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے قبضے سے چھڑا لیا جائے گا۔ گزشتہ ایام میں اِس کے درست ہونے میں مشکلات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن اب ایسے اشارے سامنے آئے ہیں کہ کئی محاذوں پر لڑنے والے جہادیوں کی قوت میں بتدریج کمی محسوس کی جا رہی ہے اور العبادی کا خواب پورا ہونے کا وقت قریب ہے۔

عراقی فوج کے انسداد دہشت گردی کے دستوں کے ایک سینیئر افسر اور یونٹ کمانڈر معین السعدی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ملکی فوج کے ہراول دستوں میں شامل خصوصی تربیت یافتہ کمانڈوز اب الخضریٰ کے علاقے میں جہادیوں کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ امن، قاہرا اور ظوہور میں بھی فوج نے قدم رکھ دیے ہیں۔

سعدی نے واضح انداز میں کہا کہ موصل سے جہادی اب بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ اُن کے فرار کے تمام راستوں پر ناکے لگے ہوئے ہیں۔ عراقی یونٹ کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ جہادیوں کے پاس صرف دو آپشنز ہیں اور اُس میں ایک ہتھیار پھینکنے اور دوسرا مر جانے کا ہے۔

Irak Kämpfe um Mossul (Reuters/M. Salem)

موصل کے جہادیوں پر عراقی ٹینک گولہ داغتے ہوئے

گزشتہ دنوں کے دوران عراقی فوج نے جہادیوں کی شامی علاقوں سے منسلک سپلائی لائن کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ سپلائی لائن موصل کی مغربی سمت سے شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خود ساختہ خلافت کے دارالخلافہ الرقہ کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ موصل سے باہر نکلنے کے تمام پل تباہ کیے جا چکے ہیں۔ صرف ایک پل بچا ہے اور وہ ہے موصل شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا دریائے دجلہ کا۔

 امریکی عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل جان ڈوریان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کی موصل پر جنوب اور جنوب مشرقی سے چڑھائی میں تیزی پیدا ہو چکی ہے۔ امریکی فوجی افسر کے مطابق داعش کے جہادیوں کا دفاع کمزور ہوتا جا رہا ہے اور اس باعث فوج کی پیش قدمی میں غیرمعمولی بہتری آئی ہے۔ اسی تناظر میں عراقی فوج کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کا کہنا ہے کہ مشرقی موصل کا چالیس فیصد علاقہ جہادیوں کے قبضے سے چھڑایا جا چکل ہے۔

امریکی عسکری اتحاد کے کرنل ڈوریان نے یہ بھی بتایا کہ عراقی فوج موصل کے ہوائی اڈے کے بہت قریب پہنچ چکی ہے اور کسی بھی وقت قبضہ ممکن ہے۔ دوسری جانب عراق کی ایران نواز شیعہ ملیشیا اسٹرٹیجیک شہر تل عفر کو اپنے حصار میں لے ہوئے ہے۔