1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل کی بازیابی کا آپریشن، جہادیوں کی جوابی کارروائیاں

عراقی فوج موصل کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ مشرقی محاذوں پر داعش کے جنگ جوؤں کی طرف سے سخت مزاحمت دکھائی جا رہی ہے۔ ادھر شیعہ ملیشیا کے مطابق تل عفر میں ان جنگ جوؤں کے خلاف اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے عراقی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپاہی موصل شہر کے مرکزی حصے کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم موصل کی مشرقی سرحدوں پر انتہا پسند گروہ داعش کے جنگ جو سخت مزاحمت دکھا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عراقی فورسز ہفتے کی علی الصبح محرابین اور علامہ نامی علاقوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

موصل جلد آزاد کرا لیا جائے گا، عراقی وزیر اعظم
النمرود بازیاب، داعش پسپا، عراقی فوج قابض

موصل میں داعش کے خلاف جنگ ڈراؤنا خواب بنتی ہوئی، عراقی کرنل

جمعے کے دن ان فورسز نے موصل کے مضافاتی علاقے التحریر کو مکمل طور پر بازیاب کرا لیا تھا۔ عراقی فوج کے میجر جنرل سمیع الرادی نے اے پی کو بتایا ہے کہ البتہ جہادی جوابی حملے کی کوشش میں ہیں اور انہوں نے ماہر نشانہ بازوں اور شیلنگ سے عراقی فوج کی پیشقدمی کو روکنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔

عراقی فورسز نے موصل کی بازیابی کی عسکری مہم سترہ جولائی کو شروع کی تھی، جس میں عراقی فورسز کو مقامی ملیشیا گروہوں کے علاوہ امریکی فضائیہ کا تعاون بھی حاصل ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ عراقی شہر موصل کو اسلامک اسٹیٹ (داعش) کا آخری اہم ٹھکانا قرار دیا جاتا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اس شہر میں اس شدت پسند گروہ کی ناکامی سے جہادیوں کی اس تحریک کو شدید دھچکا لگے گا۔

دریں اثنا شیعہ حزب اللہ بریگیڈ نے دعویٰ کر دیا ہے کہ موصل کے نواح میں واقع شہر تل عفر کے ایک مقام پر جہادیوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شیعہ جنگ جوؤں نے ایک اہم معرکے کے بعد تل عفر کی ملٹری ایئر فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس محاذ پر جمعے کی رات گئے تک لڑائی کا سلسلہ جاری تھا۔

Irak Mossul - Kurdische Peschmerga (picture-alliance/AP Photo/F. Dana)

شام اور عراق میں فعال شدت پسند گروہ داعش نے موصل پر قبضہ بھی سن دو ہزار چودہ میں کیا تھا

شیعہ کمانڈر جعفر الحسینی نے بتایا ہے کہ یہ ملٹری ایئر فیلڈ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے لیکن اس مقام سے موصل کی طرف پیشقدمی میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔ داعش کے جہادیوں نے سن دو ہزار چودہ کے موسم گرما کے دوران شیعہ اکثریتی آبادی والے شہر تل عفر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس شہر کو موصل اور شام کے مابین جہادیوں کی ایک اہم سپلائی لائن بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تل عفر میں داعش کے جنگ جوؤں کی پسپائی کا مطلب ہو گا کہ موصل میں موجود جہادیوں کا شام سے رابطہ ٹوٹ جائے گا۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سترہ جولائی کو شروع ہونے والی موصل کی تازہ لڑائی کی وجہ سے 56 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ کم ازکم ایک اعشاریہ پانچ ملین نفوس اس شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ شام اور عراق میں فعال شدت پسند گروہ داعش نے موصل پر قبضہ بھی سن دو ہزار چودہ میں کیا تھا۔

 

DW.COM