1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل کیوں اہم ہے اور کیا داعش پسپا ہو رہی ہے؟

عراقی دستوں نے امریکی فضائیہ کے تعاون سے شمالی عراقی شہر موصل کو اسلامک اسٹیٹ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس آپریشن میں کرد پیشمرگہ جنگجو بھی حصہ لے رہے ہیں۔

عراقی فوج کے ایک بیان کے مطابق اس عسکری کارروائی کو’الفتح‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا آغاز جمعرات کو علی الصبح کیا گیا۔ اس دوران ابتدائی طور پر موصل سے ملحقہ علاقوں میں اسلامک اسٹیٹ کی کمین گاہوں اور تربیتی مراکز کو تباہ کر دیا گیا ہے اور فوج کی پیش قدمی جاری ہے۔بریگیڈیئر یحیٰی رسول نے بتایا،’’جمعرات کی صبح سے اب تک بہت سے گاؤں آئی ایس کے قبضے سے آزاد کرائے جا چکے ہیں۔ ان تمام علاقوں پر عراق کا پرچم لہرا دیا گیا ہے۔‘‘ ایک اور فوجی افسر نے بتایا کہ کم از کم چار دیہات داعش سے آزاد کرائے جا چکے ہیں۔

آپریشن ’الفتح‘ کی نگرانی میجر جنرل نجم الجبروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا،’’عراقی فوج نے داعش کے درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے اور بہت سے موصل سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘‘ موصل جون 2014ء سے اس سنی شدت پسند تنظیم کے زیر قبضہ ہے۔ ذرائع کے مطابق عراقی دستے گزشتہ ایک طویل عرصے سے انتہائی منظم اور مربوط انداز میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور انہیں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ دسمبر 2015ء میں رمادی کو بھی دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرایا گیا تھا۔ اس سے قبل داعش کے خلاف جنگ میں عراقی فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

جون 2014ء میں قبضے کے ساتھ ہی اسلامک اسٹیٹ نے موصل کو اپنی نام نہاد خلافت میں شامل کر لیا تھا۔ جولائی میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے موصل کی ایک مسجد میں خطبہ بھی دیا تھا، جو عوامی سطح کی کسی محفل میں ان کی پہلی شرکت تھی۔ موصل کا شمار عراق کے کثیر الثقافتی شہروں میں ہوتا تھا۔ یہاں قدیم مسیحی بھی آباد ہیں، جو تقریباً دو ہزار سالوں سے اس علاقے میں بستے ہیں۔ اگر عراقی اور امریکی فوجی موصل کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ اس شدت پسند تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہو گا۔

2014ء میں جب اسلامک اسٹیٹ نے شام و عراق کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تھا تو آئی ایس کو روکنا نا ممکن دکھائی دیتا تھا۔ تاہم اس دوران متعدد علاقوں سے داعش پسپا ہو چکی ہے اور اس تنظیم کا اثر و رسوخ کم ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔