1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل کا خوبصورت چرچ، داعش کا پولیس آفس

عراقی شہر موصل کے مغربی حصے میں واقع ایک با وقار چرچ  پر جہادی گروہ داعش نے قبضے کے بعد اسے اپنی پولیس کا دفتر بنا رکھا تھا۔ اب اس چرچ کے خوبصورت ستونوں پر داعش کا پروپیگنڈا چسپاں نظر آتا  ہے۔

Irak Mossul Kirche (picture-alliance/dpa)

چرچ کے مرکزی دروازے پر ایستادہ پتھر کے کراس کو داعش کے جنگجو تباہ کر چکے ہیں

اسلامک اسٹیٹ کی حسبہ ڈویژن کی مذ‌ہبی پولیس کی جانب سے ’ امّ الماؤنا ‘ نامی چرچ کی عمارت کی بیرونی دیوار پر تحریر کر دیا گیا تھا، ’’ داخلے کی اجازت نہیں‘‘۔

عراقی افواج نے اس علاقے کا کنٹرول اسلامک اسٹیٹ سے رواں ہفتے واپس لیا ہے۔ عراقی فوج کی ’ایلیٹ ریپڈ ریسپانس ڈویژن‘ کے لیفٹینیٹ کرنل عبدل امیرالمحمد داوی کا کہنا ہے کہ  چرچ میں داعش کے عقائد کا نفاذ کرانے کی ذمہ دار پولیس نے اپنا دفتر قائم کر رکھا تھا۔ یہ پولیس اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ موصل کا کوئی شہری داڑھی کے بغیر نظر نہ آئے اور اسلامک اسٹیٹ کے انتہا پسندانہ مذہبی عقائد کی پیروی کو بھی یقینی بنایا جاتا تھا۔

موصل کو عراق میں داعش کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ عراقی افواج رواں برس جنوری میں موصل شہر کے مشرقی علاقے کا کنٹرول حاصل کر چکی ہیں اور اب اس شہر کے مغربی حصے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

چرچ کے مرکزی دروازے پر ایستادہ پتھر کے کراس کو داعش کے جنگجو تباہ کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں چرچ میں مسیحی عقائد میں قابلِ احترام مانے جانے والے  یسوع مسیح اور مریم کا کوئی مجسمہ باقی نہیں بچا۔ چرچ کے ستونوں پر چسپاں داعش کے پروپیگنڈا پوسٹرز البتہ یہ ضرور بتاتے ہیں کہ یہاں اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کے معمولات کیا تھے۔

شہر کو دہشت گرد تنظيم کے قبضے سے چھڑانے کے ليے باقاعدہ آپريشن گزشتہ برس اکتوبر ميں شروع کيا گيا تھا جس ميں سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار حصہ لے رہے ہيں۔ عراقی فورسز کو امریکی مدد بھی حاصل ہے۔ امریکی دفاعی اہلکاروں کے بقول اس وقت اسلامک اسٹيٹ کے قريب پندرہ ہزار ارکان شام اور عراق ميں موجود ہيں۔ ان ميں سے لگ بھگ ڈھائی ہزار موصل اور تل افر ميں جبکہ چار ہزار الرقہ ميں موجود ہيں۔

DW.COM