1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل شہر کے گرد عراقی فوج پوزیشنیں مضبوط کرتی ہوئی

امریکی فوج کے مطابق عراقی فوج نے موصل کے اردگرد چالیس دیہات کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جہادی عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔

امریکی فضائی فوج کے ایک اعلیٰ افسر بریگیڈیئر جنرل میتھیو سی آئزلر نے آج جمعے کے روز بتایا کہ سترہ اکتوبر سے شروع ہونے والا عراقی فوجی آپریشن ابھی تک کامیابی سے جاری ہے اور فوج اپنے اہداف کے حصول میں بھی کامیاب رہی ہے۔ امریکی فوجی افسر کے مطابق حالیہ ایام میں عراقی فوج نے موصل شہر کے گردونواح میں چالیس دیہات کا قبضہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے چھڑا لیا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل میتھیو سی آئزلر نے موصل شہر کی بازیابی کے فوجی آپریشن کے حوالے سے واضح کیا کہ اب عراق کے فوجی دستے شہر کی بیرونی حدود میں اپنی موجودہ پوزیشنوں کو استحکام دینے میں مصروف ہیں۔ فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق پوزیشن کو مضبوط بنانے کے بعد ہی موصل شہر کے قریب علاقوں کی بازیابی شروع کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق وسط نومبر تک عراقی فوج موصل شہر میں داخل ہو سکتی ہے۔

Irak - Angriffsvorbereitungen in Mossul (picture-alliance/AP/K. Mohammed)

عراقی فوج اب موصل شہر کے ارد گرد اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہی ہے

امریکی جنرل نے مزید کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو امریکی عسکری اتحاد کی فضائی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے اور روزانہ کم از کم تین مرتبہ جہادیوں کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اُن کی مجموعی قوت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ جہادی اب موصل کی لڑائی کا ممکنہ نتیجہ بھانپ چکے ہیں اور وہ شہر کو بارودی سرنگوں اور زیر زمین زیادہ سے زیادہ بم نصب کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس دوران عراقی فوج کی حامی ملیشیا کی خاص کوشش ہے کہ موصل کے شمال میں واقع اسٹریٹیجیک مقام تل عفر پر قبضہ کیا جائے تا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی پسپائی اختیار کرتے ہوئے شام میں دوبار داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اس سلسلے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بغداد پہنچے ہوئے ہیں اور وہ عراقی وزیراعظم کو قائل کرنے کی کوشش میں ہیں کہ تل عفر کی بازیابی کی لڑائی میں پاسدارانِ انقلاب کی شرکت کی پیشکش کو قبول کر لیں۔ ایران نواز ملیشیا اس وقت تل عفر کے نواح میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا کہنا ہے کہ موصل میں ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کو جہادی بطور شیلڈ استعمال کر رہے ہیں۔ کونسل کی ترجمان روینا شامدسانی  نے بتایا کہ چالیس عام شہریوں کو اِس بنیاد پر قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے جہادیوں کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی دوان ایک سو نوے عراقی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔