1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل: داعش کی شکست انتہائی قریب

عراقی فورسز نے آج اتوار کے روز دہشت گرد گروپ داعش کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر موصل کے اُس آخری حصے پر بھی چڑھائی کر دی ہے جو اس گروپ کے قبضے میں ہے۔ عراقی فورسز اسے فیصلہ کُن حملہ قرار دے رہے ہیں۔

عراقی فورسز داعش کے سابق مضبوط مضبوط ترین گڑھ سمجھے جانے والے ملک کے شمالی شہر موصل کو اس دہشت گرد گروپ سے آزاد کرانے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ فوج نے مغربی موصل کے اُس آخری حصے کو گھیرے میں لے کر چڑھائی کردی  ہے، جہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی چھپے ہوئے ہیں۔ موصل داعش کا عراق میں بڑا مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے اور اس گروپ کا شہر کے تاریخی حصے پر ابھی تک کنٹرول موجود ہے۔

جہادیوں کے آخری ٹھکانے پر تین اطراف سے حملہ کیا گیا ہے۔ مغربی موصل کے جس قدیمی حصے پر چڑھائی کی گئی ہے، وہیں وہ نوری مسجد بھی واقع  ہے، جہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیڈر ابوبکر البغدادی نے سن 2014 میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔

Irak Flüchtlinge Lebensmittelvergiftung (Reuters/A.Konstantinidis)

اقوام متحدہ کے مطابق داعش کے زیر قبضہ علاقے میں ابھی تک ایک لاکھ سے زائد سویلین پھنسے ہوئے ہیں

عراقی فورسز کی طرف سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے نو ماہ قبل جس آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا، یہ حملہ اُس مقصد کے حصول کے لیے اختتامی کارروائی ثابت ہو گی۔ پیش قدمی کرتے ہوئی فوج کو خودکش حملوں اور بارودی سرنگوں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ کئی جنگجو چھتوں پر بیٹھ کر فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہر کا مغربی تاریخی حصہ انتہائی گنجان آباد ہے اور تنگ گلیوں اور راستوں پر مشتمل ہے۔ اسی باعث اس علاقے میں آپریشن انتہائی پیچیدہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق داعش کے زیر قبضہ علاقے میں ابھی تک ایک لاکھ سے زائد سویلین پھنسے ہوئے ہیں اور انتہائی نا گفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ ان شہریوں کو خوراک، پانی اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے جبکہ طبی سہولیات تک ان کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

عراقی فورسز کی طرف سے موصل کا قبضہ داعش سے چھڑانے کے لیے جاری اس آپریشن میں امریکی عسکری اتحاد کی طرف سے فضائی حملوں کی مدد بھی حاصل ہے۔