موصل اب بیس کلومیٹر دور، عراقی فوج کی پیش قدمی جاری | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موصل اب بیس کلومیٹر دور، عراقی فوج کی پیش قدمی جاری

عراقی فوج مسلسل موصل شہر کی جانب بڑھ رہی ہے۔ راستے میں آنے والے چھوٹے بڑے قصبے ’داعش سے پاک‘ کیے جا رہے ہیں۔ اس لڑائی کا جائزہ لینے کے لیے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر عراق پہنچ گئے ہیں۔

عراقی فوج نے آج ہفتے کے روز  موصل شہر کے راستے میں آنے والے ایک بڑے مسیحی قصبے قاراقوش کی بازیابی کے لیے اپنا آپریشن شروع کر دیا۔ یہ قصبہ موصل شہر سے بیس کلومیٹر یا تیرہ میل کی دوری پر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قاراقوش آپریشن سے قبل عراقی فوج کے کمانڈوز نے بارتیلا کے مسیحی گاؤں کو بھی داعش کے چنگل سے چھڑا لیا۔

اس شہر کی ساری آبادی سن 2014 میں داعش کے جنگجوؤں کی آمد کے بعد سے مختلف مقامات پر منتقل ہو چکی ہے۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے سن 2014 میں ہی شمالی عراق کے وسیع تر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب وزیر اعظم حیدر العبادی کی حکومت اپنے ملک کے وسیع شمالی حصے کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے پنجے سے چھڑانے کی عسکری جدوجہد کی آخری منزل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عراقی فوج نے گزشتہ پیر کو شروع کیے جانے والے اس آپریشن میں اب تک پچاس سے زائد دیہات کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر ایک غیر اعلانیہ دورےپر عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ گئے ہیں۔ رواں برس کے دوران کارٹر تیسری مرتبہ بغداد پہنچے ہیں۔ وہ وزیر اعظم حیدر العبادی کے علاوہ اعلیٰ عراقی جرنیلوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع کی  آمد کی بنیادی وجہ موصل کی بازیابی کے لیے جاری عسکری مہم کا جائزہ لینے کے علاوہ اگلے دنوں میں اس شہر میں ہونے والی ممکنہ جنگ کی منصوبہ بندی کو زیر بحث لانا بھی ہے۔

Irak Mossul (Getty Images/C.Court)

عراق میں داعش کے خلاف بڑی لڑائی موصل میں ہونے کی توقع ہے

اس وقت امریکا کے پانچ ہزار فوجی عراق میں موجود ہیں۔ دو روز قبل امریکی بحریہ کا ایک افسر جیسن فائنن موصل شہر کے نواح میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ ایک سو اعلیٰ امریکی فوجی افسر عراقی فوج اور کردوں کی پیش مرگا فورس کے ساتھ موصل کی لڑائی میں اسٹریٹیجی مرتب کرنے والی فوجی آپریشن ٹیم میں شامل ہیں۔

امریکی اور عراقی فوجی حلقوں کا خیال ہے کہ عراق کے اندر عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ سب سے بڑی لڑائی موصل میں شروع ہونے والی ہے۔ جہادیوں نے عراقی فوج کی توجہ ہٹانے کے لیے کرکوک شہر پر بھی ایک بڑا حملہ جمعہ اکیس اکتوبر کو کیا تھا۔ عسکریت پسندوں نے کرکوک میں کئی سکیورٹی اہلکاروں سمیت کل چھالیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ کرکوک شہر کی پولیس کے سربراہ نے اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد کی بنیاد پر پچاس کے قریب حملہ آور جہادیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ عراقی شہر کرکوک آج دوسرے دن بھی کرفیو کی حالت میں ہے اور ملکی سکیورٹی فورسز پورے شہر میں بچے کھچے جہادیوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔