1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موسیٰ قلعه پر قبضه اور طالبان کی فوجی پریڈ

افغانستان کے جنوبی صوبه ہلمند کے اسٹریٹیجک نکته نگاه سے اہم ضلعے موسیٰ قلعه پرآج (بده 26 اگست) کو طالبان نے قبضه کر لیا ہے۔ طالبان نے اِس قبضے سے کابل حکومت کو یه اشارہ دیا ہے کہ وہ اب بهی خاصے مضبوط ہیں۔

موسیٰ قلعه ہلمند کا شمالی ضلع ہے اور اِس مقام سے دیگر جنوبی صوبوں کے ساتھ ساتھ مغربی اور حتیٰ کہ مرکزی صوبوں تک رسائی ممکن هے۔ ہلمند سے موصوله اطلاعات کے مطابق ایک سو سے زائد کی عسکریت پسندوں نے پانچ روز قبل موسیٰ قلعه پر دهاوا بولا تها۔ مقامی انتظامیه، بشمول فوج و پولیس نے چار دن کی مزاحمت کے بعد آج کنٹرول کهودیا۔

ہلمند گزشته ایک دہائی سے بهی زیاده عرصے تک طالبان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا تها، تاہم کچھ عرصے سے یہاں سکیورٹی کی صورتحال خاصی بہتر بھی ہو گئی تهی اور عسکریت پسند مشرقی اور شمالی صوبوں میں سرگرم تھے۔

غیر مصدقه اطلاعات کے مطابق حالیه جهڑپوں میں دونوں اطراف بهاری جانی نقصان ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے البته محض تین اہلکاروں کی موت اور ایک سو کے زخمی هونے کی تصدیق کی گئی هے. حکام نے چالیس طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا هے۔

Mullah Akhtar Mohammad Mansour

طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور

طالبان کو اب نه صرف ضلعی انتظامیه کے صدر دفتر پر بلکه پولیس ہیڈکوارٹرز، ہسپتال اور دیگر متعلقه تمام سرکاری عمارات پر کنٹرول حاصل ہوچکا ہے۔ ایک پیغام میں طالبان نے دعوی کیا ہے که بڑی تعداد میں اسلحه، گوله بارود اور گاڑیوں پر بھی قبضے کیا گیا ہے۔ گزشته ہفتے کے دوران موسیٰ قلعہ کے قرب و جوار میں قائم سکیورٹی چیک پوسٹوں پر طالبان کے حملوں میں تقریباً چالیس فوجی مارے گئے تھے۔ اِن حملوں کے حوالے سے طالبان کا کہنا ہے که ان کے ساتهی سکیورٹی اہلکاروں کا پیچها کرتے هوئے گریشک ضلع کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ موسیٰ قلعه پر حملے سے قبل طالبان نے اپنی طاقت کے مظاہرے کے طور پر ہلمند میں ایک فوجی پریڈ کا اہتمام بھی کیا اور اِس میں چهوٹے، بڑے اور درمیانے درجے کے اسلحے کی کهلے عام نمائش کی گئی۔ ان میں سے بیشتر ہتھیار حکومتی فورسز سے چھینےگئے تهے۔

مبصرین کے بقول بلاشبه ہلمند کے اس شمالی ضلع پر قبضه اور دیگر حصوں میں بڑهتی ہوئی عسکری سرگرمیاں سے طالبان کے نئے امیر ملا منصور یه ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ طالبان اب بهی فعال هیں۔ سینیئر افغان صحافی طایر زلاند کہتے هیں که سال کے ان ایام میں میں عمومی طور پر عسکریت پسند حکومت کے خلاف زیاده سے زیاده حملے کرتے رہتے ہیں، تاہم موسیٰ قلعه کا حکومتی کنٹرول سے نکلنا ملک کے جنوب میں قیام امن کے دعووں کو بے نقاب کرتا ہے۔ زلاند کے بقول ہلمند اور ملک کے دیگر حصوں میں طالبان نے افغان فوج کے کمانڈوز کی طرح اپنی بهی ایک کمانڈو فورس کھڑی کر دی ہے۔