1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

موسیقی کی دنیا پر چھا جانے کا خواہش مند ایشین گرل بینڈ

پانچ مختلف ایشیائی ملکوں کی لڑکیوں پر مشتمل ایک ایسا نیا میوزک گروپ ان دنوں تیزی سے کامیابی کی منزلیں طے کر رہا ہے جس کا نام Blush ہے۔

default

یہ نوجوان گلوکارائیں ابھی سپائس گرلز یا پُسی کیٹ ڈولز جیسے میوزک گروپس کو ملنے والی عالمگیر شہرت سے تو بہت دور ہیں لیکن انہیں امید ہے کہ ایک دن بلش بھی اتنا ہی کامیاب بینڈ ہو گا جتنا کہ سپائس گرلز اور پُسی کیٹ ڈولز۔اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شامل لڑکیوں کا تعلق فلپائن، بھارت، چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے ہے۔

اس طرح یہ گروپ ایکpan-Asian گرل بینڈ ہے۔ اس میں شامل پانچوں گلوکاراؤں نے گزشتہ سال اپنے اپنے ملکوں میں سینکڑوں دیگر نوجوانوں کو شکست دے کر موسیقی کے قومی سطح کے مقابلے جیتے تھے۔ اب یہ نیا میوزک گروپ مشرقی اور مغربی دنیا دونوں میں ہی اپنی کامیابی کے لیے بھر پور کوششیں کر رہا ہے۔ اس گروپ کا پہلا گیت مئی میں ریلیز کیا جائے گا۔ یہ گروپ اپنی ڈانس پریکٹس اور موسیقی کی ریہرسل ہانگ کانگ میں کرتا ہے۔

Lady Gaga

لیڈی گاگا

اس بینڈ میں شامل بھارتی گلوکارہ علیشا بودھرانی نے ابھی حال ہی میں خبر ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ بلش گروپ کو امید ہے کہ اسے جلد ہی عالمگیر شہرت حاصل ہو گی اور اس کی سنگرز اپنے میوزک کے ساتھ بہت جلد ہر کسی کا دل جیت لیں گی۔ بلش میں شامل آرٹسٹوں کی عمریں اٹھارہ اور اٹھائیس برس کے درمیان ہیں۔ علیشا بودھرانی کے مطابق اس گروپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے فنکار مختلف ثقافتوں، زبانوں، خطوں اور قوموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس نئے گرل بینڈ کو سپائس گرلز جیسی کامیابی کے لیے ابھی بہت محنت اور انتظار کرنا ہو گا۔ لیکن ان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ انہیں لاس اینجلس میں ایسے پروڈیوسروں کا تعاون حاصل ہے، جنہوں نے لیڈی گاگا، Black Eyed Peas اور Beyonce جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا اور انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان امریکی پروڈیوسروں کے مطابق بلش کی گلوکاراؤں میں اتنا ٹیلنٹ موجود ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے طور پر ایک کامیاب گلوکارہ بن سکتی ہے۔

بلش کی طرف سے ابھی حال ہی میں ہانگ کانگ میں ہانگ کانگ سیونز نامی رگبی ٹورنامنٹ کے موقع پر اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا گیا، جسے شائقین نے بہت پسند کیا۔ اب یہ گروپ اپنے لیے پہلی مرتبہ عالمی سطح کی کسی اسٹیج پرفارمنس کے موقع کی تلاش میں ہے۔اس گروپ میں شامل جنوبی کوریا کی پچیس سالہ گلوکارہ کا نام لی جی ہائے ہے۔ اس نے یونیورسٹی کی سطح تک قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ جی ہائے کا کہنا ہے کہ بلش میں شامل آرٹسٹوں کا تعلق مختلف ملکوں اور ثقافتوں سے ہے لیکن ان میں ایک بڑی قدر مشترک بھی ہے۔ ان کے مطابق ان کا اور ان کی ساتھی گلوکاراؤں کا ایک ہی خواب ہے اور یہی ایک بات ان کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس