1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موسوی سرکاری ملازمت سے برطرف

ایران میں برسراقتدار صدر محمود احمدی نژاد کی قدامت پسند جماعت اور اُن کے مخالف اصلاح پسندوں کے درمیان سیاسی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔

default

ایران میں سابق صدارتی امیدوار اور صدر احمدی نژاد مخالف محاذ کے سربراہ میر حسین موسوی کو سرکاری ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ہی کے ایک اور واقعے میں صدر احمدی نژاد کے حامیوں نے آیت للہ یوسفی کے قُم میں واقع گھر پر بھی دھاوا بولا اور اُسے نقصان پہنچایا۔ یوسفی کا شمار احمدی نژاد کے کڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔

رواں سال جون میں منعقدہ متنازعہ صدارتی انتخابات میں احمدی نژاد کی جیت کے بعد سے اپوزیشن سڑکوں پر آنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہی۔ اسی طرز پر حکومت بھی موسوی اور ان کے حامیوں کو دبانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔

Iran Wahlen 2009

احمدی نژاد کے سبز پوش مخالفین ملک میں تبدیلی کا عزم کئے ہوئے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے میر حسین موسوی سبز انقلاب کے رہنما کے طور پر مشہور ہو رہے ہیں۔ اُن کے حامی سبز رنگ کو احتجاج اور تبدیلی کی علامت کے طور پر استعمال کر تے ہیں۔ سبز پوشوں کی یہ جماعت ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا روپ دھار رہی ہے، جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے۔ سبز پوشوں کو مغربی ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے اور ایران کے اندر سابق صدور ہاشمی رفسنجانی اور محمد خاتمی جیسے رہنماؤں کی بھی۔

گزشتہ روز میر حسین موسوی کو اکادمی ادبیات کی صدارت کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ادارے کے مطابق کونسل برائے ثقافتی انقلاب کے ارکان نے موسوی کی جگہ علی معلم کو نیا سربراہ نامزد کر دیا ہے۔ موسوی ایران کے سابق وزیراعظم رہ چکے ہیں جبکہ وہ 1999ء میں ادارہ ادبیات کے قیام سے اب تک اُس کے سربراہ چلے آ رہے تھے۔ ایرانی صدر احمدی نژاد کے حکم پر میر حسین موسوی کوچند دیگر سرکاری عہدوں سے پہلے ہی برطرف کیا جا چکا ہے۔

Kombobild Mir-Hossein Mousavi und Mahmoud Ahmadinejad

موسوی صدارتی انتخاب میں اپنی شکست کو تسلیم نہیں کرتے اور صدر احمدی نژاد کی جیت کو دھاندلی قرار دیتے ہیں۔

ادھر قُم شہر میں صدر احمدی نژاد کے حامیوں کی جانب سے موسوی کے روحانی پیشوا آیت للہ یوسفی کے گھر پر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر کی کھڑکیاں توڑی گئ اور یوسفی کے بعض عزیزوں کو زخم بھی آئے۔ اصلاح پسندوں کی متعدد ویب سائٹس پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں۔ بہتر سالہ یوسفی، اتوار کو انتقال کرجانے والے آیت اللہ منتظری کے جانشین ہیں۔ گزشتہ روز منتظری کی نماز جنازہ کے موقع پر احمدی نژاد مخالف مظاہرے کئے گئے تھے۔ ایران میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر مختلف نوعیت کی پابندیوں کے باعث موسوی کے حامی اصلاح پسند، انٹرنیٹ پر سماجی میل ملاپ کی ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے اپنا پیغام بیرونی دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان

ادارت : امجد علی

DW.COM