موسم سرما کا گرم ترین جنوری | سائنس اور ماحول | DW | 18.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

موسم سرما کا گرم ترین جنوری

سائنسدانوں کی طرف سے جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار سولہ کا پہلا مہینہ جدید دور کا گرم ترین جنوری ثابت ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں کتنا بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

امریکا کی سمندری اور ماحولیاتی انتظامیہ کے مطابق رواں برس جنوری میں سطح زمین اور سطح سمندر کا درجہ حرارت 1.87 ڈگری فارن ہائیٹ ( 1.04 سیلسیس) رہا جو کہ بیسویں صدی میں جنوری کے اوسطاﹰ درجہ حرارت میں سب سے زیادہ تھا۔ امریکا کے ادارے ’این او اے اے‘ کے مطابق ان کا ادارہ سن 1880ء سے اعداد وشمار جمع کر رہا ہے اور اس مناسبت سے یہ اب تک کا گرم ترین جنوری تھا۔

اس ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے موسم سرما کا گرم ترین جنوری سن دو ہزار سات میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اُس جنوری میں سطح زمین اور سطح سمندر کا اوسطاﹰ درجہ حرارت 1.58 ڈگری فارن ہائیٹ رہا تھا۔

اس مرتبہ جنوری میں ماہانہ عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے مسلسل نوواں ریکارڈ ٹوٹا ہے۔ سن دو ہزار پندرہ سے درجہ حرارت میں اضافے یا شدت کے حوالے سے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔

Satellitenbild der Erde Bahamas Tropensturm Emily

امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور ’این او اے اے‘ کے مطابق 1880ء کے بعد سے سن دوہزار پندرہ گرم ترین سال رہا تھا

امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور ’این او اے اے‘ کے مطابق 1880ء کے بعد سے سن دوہزار پندرہ گرم ترین سال رہا تھا۔ اس سے پہلے سن دوہزار چودہ کو گزشتہ صدی کا گرم ترین سال قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ دسمبر کو بھی گزشتہ ایک سو چھتیس برسوں میں موسم سرما کا گرم ترین دسمبر قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح گلوبل سنو لیب نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری میں شمالی نصف کُرہ زمین کا سات لاکھ چالیس ہزار مربع میل پر محیط حصہ برف سے ڈھکا رہا، جو کہ سن 1981ء سے لے کر سن 2010ء تک کی اوسط سے زیادہ تھا۔ اس طرح یہ برفباری کے حوالے سے یہ پیمائش گزشتہ پچاس برسوں میں نویں نمبر پر آتی ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر سولہ گرم ترین برسوں میں سے پندرہ اکیسویں صدی میں ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا بڑا سبب صنعتی ترقی بھی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ فیکٹریوں سے خارج ہونے والی سبز مکانی گیسیں ماحول کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔