1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

موسم خزاں بھی تباہ کن ہو سکتا ہے، چینی ماہرین موسمیات

چینی ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس سال مزید قدرتی آفات کا خدشہ ہے۔ موسم خزاں میں شدید بارشیں ہوں گی، جس سے زبردست تباہی پھیل سکتی ہے۔

default

رواں سال موسم گرما کے دوران بارشوں اور خراب موسم نے پاکستان اور چین میں زبردست تباہی پھیلائی ہے۔ پاکستان کو گزشتہ ایک صدی کے شدید ترین سیلاب کا سامنا ہے جبکہ چین میں گزشتہ دس سالوں کے دوران اتنی زیادہ بارشیں نہیں ہوئیں۔ صرف ان دو ممالک میں قدرتی آفات نے ہزاروں افراد کی جان لے لی اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا۔

چینی ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ بارشوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر موسم خزاں میں شروع ہو گا، جس سے مزید تباہی ہو سکتی ہے۔ اگست کے اوائل میں چینی صوبے ’گانزو‘ میں بارشوں اور زمینی تودوں نے شمال مغربی چین کے کئی علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔

China Flut 2010

چینی صوبے ’گانزو‘ میں بارشوں اور زمینی تودوں نے شمال مغربی چین کے کئی علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا

کچھ علاقوں میں پانی کی سطح اتنی اونچی تھی کہ کئی منزلہ عمارتیں زیر آب آئی ہوئی تھیں۔ قدرتی آفات نے صرف اسی صوبے میں اپنی طاقت ظاہر نہیں کی بلکہ شمال مشرقی اور شمالی کوریا کی سرحد سے ملحقہ شہر ’ڈانڈونگ‘ بھی اس سے محفوظ نہ رہا۔ اسی طرح چین کے جنوب اور جنوب مغربی علاقوں میں بھی زمینی تودے گرے۔

موسم گرما میں بارشیں ہونا توکوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن اس مرتبہ بہت زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے موسموں میں بہت زیادہ اورغیر معمولی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ چینی ماہرین موسمیات کئی سالوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے موسم میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ چینی ماہر ’لوئی ہانگبنگ‘ کے بقول اگلے سالوں میں چین میں درجہ حرارات میں اضافہ ہو گا اور دنیا بھر میں پانی کی نقل و حرکت میں نمایاں تبدلیاں آئیں گی۔ اس طرح کچھ علاقوں میں زیادہ بارشیں ہوگی اور کچھ علاقوں میں بہت ہی کم۔

Flut China Yangtze Fluss China 2010 Flash-Galerie

چینی ماہر ’لوئی ہانگبنگ‘ کے بقول اگلے سالوں میں چین میں درجہ حرارات میں اضافہ ہو گا

چینی محکمہ موسمیات کے مطابق قدرتی آفات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے اوراکتوبر میں شدید بارشیں ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انتہائی موسم کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ غربت بھی ہے جبکہ قدرتی آفات کی ذد میں آنے والے علاقے میں اقتصادی ترقی کا بھی اس میں ہاتھ ہوتا ہے۔ اکثر زیادہ سے زیادہ صنعتی پیداوار کی اس دوڑ میں تحفظ ماحول کے موضوع کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران شمالی کوریا کی سرحد سے ملحقہ شہر ’ڈانڈونگ‘ میں بے پناہ فیکٹریاں لگیں اور بہت زیادہ معیشی ترقی ہوئی اور یہی وہ علاقہ تھا، جو اگست میں شید بارشوں کی وجہ سے زیرآب آیا تھا۔ چین میں تیزی سے ہوتی ہوئی اقتصادی ترقی کی قیمت موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے اور خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : کشور مصطفی

DW.COM

ویب لنکس