1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

موسمیاتی تبدیلیاں: سب سے زیادہ خطرہ جنوبی ایشیا کو

حال ہی میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق، جس کے لئے دُنیا کے 170 ملکوں کے حالات کا جائزہ لیا گیا تھا، دُنیا کا کوئی بھی دوسرا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے پر اُتنا کمزور نہیں ہے، جتنا کہ جنوبی ایشیا کا خطہ۔

default

پاکستان: تا حد نظر پانی ہی پانی

اِس سروے میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے اور اِس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو سیلاب، خشک سالی، طوفانوں اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خطرات کا سامنا ہے۔

سروے میں شامل ایک سو ستّر ملکوں میں سے ایسے سولہ ملکوں کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے، جنہیں اگلے تیس برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سب سے زیادہ شدید خطرات در پیش ہوں گے۔ اِن سولہ میں سے اکٹھے پانچ ممالک جنوبی ایشیا میں ہیں۔

سولہ ممالک کی اِس فہرست میں بنگلہ دیش پہلے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔ نیپال چوتھے نمبر پر ہے، افغانستان کا نمبر آٹھواں ہے جبکہ پاکستان سولہویں نمبر پر ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے مرتب کیا جانے والا یہ جائزہ برطانیہ میں قائم ایک ایڈوائزری فرم میپل کروفٹ کی کاوش ہے۔ اِس کا مقصد ملکوں کی ایک ایسی فہرست تیار کرنا تھا، جو سرمایہ کاری اور پالیسی سازی کے سلسلے میں پیشگی رہنمائی کر سکتی ہو۔

Zyklon Aila wütet in Indien und Bangladesch

بھارتی دیہاتی سیلابی پانی میں سے گزرتے ہوئے

اِس فہرست کی تیاری کے سلسلے میں جن بیالیس عوامل کو پیمانہ بنایا گیا، اُن میں سماجی، معاشی اور ماحولیاتی عوامل بھی شامل تھے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ کسی ملک کی حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آبادی، ماحولیاتی نظاموں اور کاروبار کو درپیش خطرات کا اندازہ لگانے اور اُن پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔

میپل کروفٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کو اپنے ہاں موسموں کے تانے بانے میں در آنے والی اُن تبدیلیوں کی وجہ سے خاص طور پر خطرات کا سامنا ہے، جو قدرتی آفات کا سبب بنتی ہیں، جیسے کہ اِس سال پاکستان اور بنگلہ دیش میں سیلاب کی وجہ سے بیس ملین سے زیادہ انسان متاثر ہوئے۔ اِس ادارے کی ماحولیاتی تجزیہ کار اَینا مَوس کے مطابق اِس بات کے بڑھتے ہوئے شواہد موجود ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں موسمیاتی اثرات کی شدت اور تعداد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ درجہء حرارت میں معمولی سی تبدیلی بھی انسانی ماحول پر بہت بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے اور پانی کی دستیابی اور فصلوں کی پیداوار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

Zyklon Aila

ایک بنگلہ دیشی خاتون ایک سمندری طوفان کے بعد آنے والے سیلاب میں اپنے بچوں کے ہمراہ

بنگلہ دیش اِس لئے اِس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے کیونکہ وہاں خشک سالی اور قحط کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اِس ملک میں غربت بھی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے، اِس کا زراعت پر انحصار بھی بہت زیادہ ہے جبکہ وہاں کی حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی بھی سب سے کم اہلیت رکھتی ہے۔

اِس فہرست میں بھارت کو اِس لئے دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ پورا ملک ہی آبادی کے شدید دباؤ اور قدرتی وسائل پر پڑنے والے حد سے زیادہ بوجھ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اِس فہرست کے مطابق جن ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سب سے کم سامنا کرنا پڑے گا، اُن میں ناروے پہلے نمبر پر ہے جبکہ اُس کے فوراً بعد سکینڈے نیویا کے دیگر ممالک کے نام آتے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس