1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

موسمیاتی تبدیلیاں اور ناسا کا خلائی مشن

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا ، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ بننے والی گیس CO2 کی جانچ کے لئے خصوصی خلائی مشن روانہ کررہا ہے۔ مشن 27 فروری کو کیلیفورنیا کی وینڈن برگ ‌Vandenberg ائیرفورس بیس سے خلا میں روانہ ہوگا۔

default

خلائی مشن زمین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ کی بنیادی وجوہات کا پتہ چلائے گا

زمین کے گرد چکر لگاتی ہوئی اس مشاہد ہ گاہ کے ذریعے پہلی مرتبہ یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ انسانی اور دیگر قدرتی ذرائع سے کتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہورہی ہے۔ دوسری طرف اس سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ سمندروں اور زمین پر کس قدر اور کن مقامات پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کیا جاتا ہے۔

فضا میں کاربن کی مقدار یا اس کے ارتکاز کی پیمائش کے لئےکاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرنے والے ذرائع اور زمین اور سمندروں میں اسے جذب کرنے کی صلاحیت کے درمیان توازن کو ناپا جاتا ہے۔ انسانی اقدامات خصوصی طور پر زمین سے حاصل کئے گئے ایندھن جلانے اور جنگلات میں کمی ہونے کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔ 1750ءکے بعد صنعتی انقلاب شروع ہونے سے اب تک فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ایک ملین میں 280 حصے سے بڑھ کر 385 حصے فی ملین تک پہنچ گئی ہے۔ موسمیاتی اور ماحولیاتی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے سے فضا میں موجود گرین ہاؤس یا سبز مکانی گیسوں کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے جوزمین کی سطح کا درجہ بڑھنے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔

خلائی مشاہدہ گاہ کے ذریعے اس بات کا ایک مکمل نقشہ سامنے آسکے گا کہ زمین کے کونسے حصوں میں کس قدر کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہورہی ہے اور کس قدر جذب ہورہی ہے۔ مزید یہ کہ سال کے مختلف حصوں میں اس شرح میں کس قدر تبدیلی آرہی ہے۔امید کی جارہی ہے کہ اس خلائی مشاہدہ گاہ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو زمینی اور دیگر مشاہدہ گاہوں سے حاصل ہونے والےاعداد وشمار سے ملا کر اس بات کا جواب تلاش کیا جاسکے گا کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح میں تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؟ اور ان سے زمینی موسم اور کاربن سائیکل پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔

انسانوں کی جانب سے فضا میں بھیجی جانے والی کاربن کا صرف چالیس فی صد حصہ فضا میں رہتا ہے۔ 60 فیصد میں سے تقریبا آدھی کاربن سمندر جذب کرلیتے ہیں۔ جبکہ باقی کی تقریبا 30 فیصد کاربن کو کہیں نہ کہیں زمین جذب کرلیتی ہے۔ ابھی تک سائنسدان اس بات کا پتہ نہیں چلا پائے کہ زمین پر وہ کونسے مقامات ہیں جوکاربن کو جذب کرتے ہیں، اور کونسی وجوہات زمین کی اس صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ سائنسدان ان مقامات کو کاربن جذب کرنے کے نامعلوم مقام یا مسنگ کاربن سنک کہتے ہیں۔

فضا میں کاربن کی مقدار جانچنے کے لئے پاساڈینا Pasadena کیلیفورنیا میں قائم کی جانے والی ناسا کی مشاہدہ گاہ کے پرنسپل انویسٹیگیٹرDavid Crisp کا کہنا ہے کہ آج وہ عوامل جانچنا انتہائی ضروری ہیں جو ہماری فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ تاکہ ہم نہ صرف مستقبل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک حد کا اندازہ لگا سکیں، بلکہ اس سے بچاؤ کے لئے تدابیر بھی اختیار کی جاسکیں۔

ناسا کی جانب سے بھیجی جانے والی خلائی مشاہدہ گاہ پوری دنیا کے گرد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جانچنے کی صلاحیت میں ایک حیرت انگیز تبدیلی لائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق ہر 16 دنوں میں یہ مشاہدہ گاہ دنیا کے گرد 80 لاکھ مقامات سے کاربن کی مقدار کی پیمائش کرے گی۔ اور کم از کم دو سال تک حاصل ہونے والے اس ڈیٹا کے ذریعے فضا میں مختلف مقامات پر کاربن کی مقدار کی درست جانچ کی جاسکے گی۔ جس سے سائسندانوں کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے درست اندازے قائم کرنا ممکن ہوسکے گا۔