1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

موسمیاتی تبدیلیاں اور جنگلات میں آگ لگنے کے بڑھتے واقعات

برازیل، انڈویشیا، آسٹریلیا اور یونان ہو یا پھر روس اور بوتسوانہ، گزشتہ کچھ برسوں سے دُنیا بھر میں مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ہزاروں انسان لقمہء اجل بن چکے ہیں۔

اسپین کے جنگلات میں آگ

اسپین کے جنگلات میں آگ

آگ کے شعلوں نے پورے کے پورے دیہات کا صفایا کر دیا ہے۔ اِن شعلوں کے ممکنہ طور پر صنعتی تنصیبات یا پھر تابکاری سے متاثرہ جنگلات تک پہنچنے کی صورت میں قومی سطح کی یہ آفت بین الاقوامی پیمانے کی آفت بن جاتی ہے، جیسا کہ 2010ء میں روس میں ہوا۔ اِس طرح کے حالات میں عام طور پر فائر بریگیڈ کا عملہ اور سیاستدان بے بس نظر آتے ہیں۔ خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے ایف اے او نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

2010ء میں روس کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی

2010ء میں روس کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی

آگ لگنے کے ان واقعات کے کئی مختلف اسباب ہیں۔ مثلاً برازیل میں زرعی رقبے کے حصول کے لیے جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ کٹائی کے عمل سے گزرنے والے ان جنگلات میں آگ بھڑک اٹھنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی خشک سالی کے وقفوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اور وجہ حفاظتی انتظامات کا فقدان بھی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت FAO کے جنگلات کے شعبے کے سربراہ ایڈوارڈو رویاز کے مطابق مناسب پیشگی اقدامات کرتے ہوئے جنگلات کو آگ سے بچایا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں:’’جہاں بھی کچھ اُگتا ہے، وہاں آگ لگ سکتی ہے۔ مطلب یہ کہ خطرہ ہمیشہ رہتا ہے اور ہمیں اِس کا پیشگی سدباب کرنا چاہیے۔ جہاں آگ لگنے کے واقعات تواتُر کے ساتھ ہوتے رہتے ہوں، وہاں دانشمندانہ منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔ خطرے کے امکانات کو کم سے کم کیا جانا چاہیے۔ بجلی گھروں، آمد و رفت کے راستوں اور رہائشی علاقوں کو بڑی احتیاط کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ جنگلات کے اردگرد ایک حفاظتی باڑ ہونی چاہیے تاکہ آگ لگنے کی صورت میں اُسے آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔‘‘

پرتگال میں فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے

پرتگال میں فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے

ایڈوارڈو رویاز کہتے ہیں کہ جنگلات کو آگ سے بچانے کے لیے قدیم روایتی طریقوں کی بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں:’’امریکہ کے قدیم ریڈ انڈینز ہوں، آسٹریلیا کے قدیم مقامی باشندے ہوں یا پھر بحیرہء روم کی قدیم آبادی، یہ لوگ جنگلاتی رقبے کے مخصوص حصوں کو اپنی نگرانی میں آگ لگوا کر تلف کرواتے تھے۔ اس چیز کو دوبارہ رواج دیا جانا چاہیے۔ بہت سے ملکوں میں ایسا کرنے پر پابندی عائد ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ بھلا آگ کے ذریعے آگ کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ لیکن یہ طریقہ سستا بھی، ماحول دوست بھی ہے اور جنگلات کو آگ کی لپیٹ میں آنے سے بچانے کا واحد راستہ بھی۔‘‘

دریں اثناء سوچنے کے انداز تبدیل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ جہاں گزرے بیس برسوں کے دوران آگ بجھانے کے لیے تکنیکی ساز و سامان پر زیادہ پیسہ خرچ کیا جاتا رہا ہے، وہاں اب ماہرین پیشگی حفاظتی انتظامات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ FAO نے جنگلات کو آگ سے بچانے کے پیشگی حفاظتی اقدامات کے سلسلے میں مغربی آسٹریلیا اور امریکی ریاست فلوریڈا کے طرزِ عمل کو مثالی قرار دیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس