1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

موسموں اور جرائم کا چولی دامن کا ساتھ !

محققین صدیوں سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مصروف ہیں کہ موسم کس طرح سے جرائم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اب جرائم پر تحقیق کے جرمن ماہرین نے موسموں اور جرائم سے متعلقہ اعداد و شمار کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔

default

فرانسیسی نواب مونٹیسکیو نے 1748ء ہی میں یہ تجویز پیش کر دی تھی کہ قوانین موسموں کو دیکھتے ہوئے وضع کیے جائیں کیونکہ مختلف طرح کے موسم جرائم پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ چنانچہ جرائم پر تحقیق کے جرمن ماہر آندریاز لوہمائر کے مطابق موسموں اور جرائم کے باہمی تعلق کی بات نئی ہرگز نہیں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آج کل موسم کا حال پولیس کے روزانہ کام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا مختلف طرح کے موسموں کی روشنی میں یہ بتایا جا سکتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کا ممکنہ ردعمل کیا ہو گا؟ لوہمائر نے موسموں سے متعلقہ لاکھوں اعداد و شمار کا موازنہ پولیس کے جرائم سے متعلقہ اعداد و شمار سے کیا ہے اور بتاتے ہیں کہ کچھ مخصوص موسموں میں مخصوص قسم کے جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے:’’موسم جتنا زیادہ گرم ہو گا، اُتنے ہی زیادہ پُر تشدد واقعات رونما ہوں گے۔ یہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایک سینٹی گریڈ گرمی زیادہ ہو گی تو اِس طرح کے جرائم کی روزانہ شرح 0.7 فیصد کے حساب سے بڑھ جائے گی۔‘‘

فرانسیسی ادیب شارل مونٹیسکیو

فرانسیسی ادیب شارل مونٹیسکیو

ماہرین کے مطابق گرمی یا سردی کا اطلاق دھوکہ دہی یا ڈکیتی وغیرہ کے واقعات پر نہیں بلکہ اُن واقعات پر ہوتا ہے، جس میں انسان دوسروں کے خلاف تشدد روا رکھتے ہیں، جنسی زیادتی کرتے ہیں یا اپنے اُن انتہائی قریبی عزیزوں کے ساتھ جنسی تعلق کے مرتکب ہوتے ہیں، جن کی مذہب یا معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔

تاہم لوہمائر بتاتے ہیں کہ اچھے موسم میں دن جتنے چھوٹے ہوتے ہیں، چوری کی بھی وارداتیں اتنی ہی بڑھ جاتی ہیں:’’تاریکی کے ہر اضافی گھنٹے کا مطلب ہے، روزانہ تقریباً ایک اضافی چوری۔ تاہم جیسے جیسے موسم سرد ہوتا چلا جائے گا، ایسی وارداتیں کم ہوتی جائیں گی۔ جب برف پڑی ہوتی ہے تو روزانہ اوسطاً چھ وارداتیں کم ہوتی ہیں۔‘‘

جرمن پولیس سے وابستہ ماہر آندریاز لوہمائر

جرمن پولیس سے وابستہ آندریاز لوہمائر

چور تاریکی اور گرمی میں وارداتیں کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس سال اکتیس جنوری اور یکم فروری کو خاص طور پر زیادہ سردی تھی اور تب جرمن شہر ہیمبرگ میں ایک دن میں چوری کی محض تین معمولی وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔

آج کل جرمن پولیس امریکی ادارے آئی بی ایم کے تیار کردہ سوفٹ ویئر پروگرام بلیو کرش سے استفادہ کر رہی ہے، جس میں ماضی کے جرائم کی روشنی میں مستقبل کے لیے پیشین گوئی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ پروگرام بتاتا ہے کہ مخصوص علاقوں میں چوری، جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان لڑائی جھگڑے، منشیات کے کاروبار اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے امکانات کتنے زیادہ ہوں گے۔

جرمن ماہر لوہمائر کے مطابق امریکہ میں 2005ء میں یہ سوفٹ ویئر متعارف کروائے جانے کے بعد سے شہر ممفس میں جرائم کی شرح میں تیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس