1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مودی کی خاموشی، عیارانہ تشدد کی ذمہ دار ہے: سلمان رشدی

بھارت میں گائے کے گوشت پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سلمان رشدی نے اِس کی ذمہ داری مودی کی خاموشی پر عائد کی ہے۔ سلمان رشدی نے یہ بات این ڈی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہی۔

default

بھارتی نژاد برطانوی ادیب سلمان رشدی

بھارتی نژاد برطانوی ادیب سلمان رشدی نے آج منگل کے روز ایک بھارتی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسندوں کے حالیہ حملوں پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی اِس بات کی غماز ہے کہ ایسے عیارانہ حملوں میں انسانی جانوں کا ضیاع جاری رکھا جائے۔ سلمان رشدی نے بھارت کا نیشنل ایوارڈ ایک ادیب کی ہندو بنیاد پرستوں کے ہاتھوں ہلاکت پر واپس بھی کر دیا ہے۔ دو درجن کے قریب مختلف کتابوں کے معروف مصنف نے اپنے انٹرویو میں اِس صورت حال پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔

ایک سوال کے جواب میں سلمان رشدی نے کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ بھارت میں روزمرہ زندگی میں عیاری و مکاری سے انسانوں کو ہلاک کرنے کا پرتشدد رویہ جو سامنے آیا ہے، وہ یقینی طور پر ایک نیا رویہ ہے۔ اِس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کی خاموشی نے بھی اِس نئے پرتشدد رویے کو تقویت بخشی ہے۔ رشدی نے بھارت کی نیشنل اکیڈمی آف لیٹرز یا ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے رکھی گئی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی ادیبوں کی جانب سے صدائے احتجاج نہ بلند کرنے کو بھی حیران کُن قرار دیا۔

Indien Ministerpräsident Narendra Modi

نریندر مودی ریاست بہار میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

نئی دہلی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سلمان رشدی نے گائے کے نام پر انسانی جانوں کے ضیاع کو نظرانداز کرنے پر وزیراعظم کے دفتر کی خاموشی پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ معروف ادیب نے کہا کہ مسٹر مودی انتہائی باتونی شخص ہیں اور ہر موضوع پر بات کرنے کو کوشش کرتے ہیں لیکن یہاں اُن کی خاموشی اِن وارداتیوں کو اجازت فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے۔ رشدی نے کہا کہ مودی کا اِس معاملے پر اگر کوئی ردعمل سامنے آتا ہے تو وہ اُن کے لیے خوشی و مسرت کا باعث ہو گا۔ رشدی کے مطابق بھارت میں عام آزادیاں یعنی اکھٹے ہو کر کسی کتاب یا خیال پر جمع ہو کر بات کرنے کے مثبت عمل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رشدی کا انٹرویو ایسے وقت میں نشر کیا گیا جب سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی پاک بھارت تعلقات پر لکھی گئی کتاب کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کرنے والے بھارتی شہری سُودھیندر کُلکارنی کے چہرے پر شیو سینا کے ورکروں نے روشنائی انڈیل دی تھی۔

اِس منافرت آمیز صورت حال پر پہلی مرتبہ بھارتی وزیراعظم نے چند روز قبل لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی منافرت پر مبنی تقسیم سے بھارت کی اقتصادی ترقی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مودی کے مطابق فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہندووں نے غربت کے خلاف جنگ کرنی ہے یا مسلمانوں کے خلاف۔ مودی نے بھارت کے اجتماعی ترقی میں اتفاق و اتحاد، مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور سماجی امن کو اہم قرار دیا۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی بھی منافرت کی سیڑھی پر چڑھتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچے ہیں اور اُن کے دور میں بھارت کے ہندو ’بیف‘ یا گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ پوری قوت سے کر رہے ہیں۔