1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مودی نے پاکستان کے سامنے گھٹنے کیوں ٹیک دیے‘؟ کیجریوال

پٹھان کوٹ ایئربیس پر جنوری میں ہوئے دہشت گردانہ حملے پر بھارت اور پاکستان کے مابین الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت پر پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دینے کا الزام لگارہی ہیں۔


بھارت نے پٹھان کوٹ ایئربیس دہشت گردانہ حملہ کی انکوائری کرنے والی پاکستان کی مشترکہ تفتیشی ٹیم(جے آئی ٹی) کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کو ’پوری طرح من گھڑت‘ قراردیا ، جن میں کہا گیا تھا کہ خود بھارت نے ہی پٹھان کوٹ حملے کا ڈرامہ رچایا گوکہ حملے کے چند گھنٹے کے اندر ہی دہشت گرد ہلاک کردیے گئے تھے لیکن عالمی برداری کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے اور پاکستان کا امیج خراب کرنے کے مقصد سے بھارتی حکام تین دن تک ڈرامہ کرتے رہے۔

مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اس بیان پر آج (بدھ کو) سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک طرف تو پاکستان بھارت میں معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے دہشت گردوں کو ایکسپورٹ کرتا ہے اور دوسری طرف بے بنیاد بیانات دیتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’کیا کوئی اس بات پر یقین کرسکتا ہے کہ ہم خود اپنے فوجی اہلکاروں کو ہلاک کریں گے؟ پاکستان کو ایسے الزامات عائد کرنا زیب نہیں دیتا اور اس سے خود اسے نقصان ہوگا۔‘‘

Narendra Modi Pathankot Indien

پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد مودی کا دورہ



حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر اور پارلیمانی امور کے مرکز ی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ’کوئی شخص ، حتٰی کہ کوئی پاکستانی بھی اس بات کا یقین نہیں کرے گا کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس کا حملہ بھارت نے خود کرایا تھا۔‘ وینکیا نائیڈو کا مزید کہنا تھا کہ گوکہ پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والا بیان اسلام آباد حکومت کا سرکاری بیان نہیں ہے لیکن پاکستان ہمیشہ یہی رویہ اپناتا ہے تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بات چیت اوردہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں شائع مذکورہ رپورٹ من گھڑت ہے اور پاکستان کی جے آئی ٹی جب تفتیش کے لئے بھارت آئی تھی تو بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے تمام ضروری شواہد اسے فراہم کیے تھے۔ این آئی اے کے ترجمان سنجیو سنگھ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم نے پانچ رکنی پاکستانی ٹیم کو ان کی طرف سے طلب کردہ تمام اطلاعات فراہم کی تھیں۔‘‘ خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی محکمہ کے ایڈیشنل آئی جی پولیس محمد طاہر رائے کی قیادت والی پاکستانی تفتیشی ٹیم نے جائے واردات کا معائنہ کرنے کے علاوہ سولہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔ اس ٹیم میں آئی ایس آئی کے لفٹیننٹ کرنل تنویر احمد بھی شامل تھے۔

Narendra Modi Pathankot Indien

مودی کی بھارت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دلبیر سنگھ سے ملاقات



اس تازہ ترین پیش رفت پر یہاں اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر زبردست حملہ کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے ٹوئٹ کرکے حکومت سے پوچھا ہے کہ ’’کیا مودی جی نے پاکستانی جے آئی ٹی کو اس لئے بلایا تھا کہ وہ ہمارے بہادر شہیدوں کی توہین کریں۔‘‘ کانگریس کے سینیئر ترجمان آنند شرما کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک سنگین سفارتی جرم کیا ہے ، جس سے پوری قوم کو شرمندگی اٹھانا پڑی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تفتیشی ٹیم کو ’مدعو‘ کرنا پٹھان کوٹ حملے میں آئی ایس آئی کو ’کلین چٹ‘ دینے کے مترادف ہے۔ کیجریوال نے اسے خارجہ پالیسی کی ’بھیانک غلطی‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم سے بھارت کے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔ کیجریوال نے مزید کہا کہ’’ گذشتہ عام انتخابات کے دوران وزیر اعظم مودی اس بات کا اعادہ کرتے رہے تھے کہ پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنائیں گے لیکن ’ اب کیا ہوگیا ؟ ہمارے وزیر اعظم نے پاکستان کے سامنے گھٹنے کیوں ٹیک دیے؟ انہیں ایسی کون سی مجبوری تھی کہ ملک کو بتائے بغیر ہی وزیر اعظم نواز شریف کو سالگر ہ کی مبارک باد دینے پاکستان جانا پڑ گیا؟‘‘ ایک دیگر اپوزیشن جماعت جنتا دل(یونائٹیڈ) نے کہا کہ پاکستانی میڈیا میں جو رپورٹ شائع ہوئی ہے وہ بھارت کے منہہ پرایک زبردست طمانچہ ہے اور اس کے لئے مودی حکومت ذمہ دار ہے۔ ادھر صوبہ اترپردیش کی سابق وزیراعلٰی اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے مودی حکومت سے پاکستان کے متعلق اپنی پالیسی کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہاں سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان پٹھان کوٹ حملہ کے ملزمین کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کرتا ہے تو مودی حکومت کو کافی سبکی اٹھانا پڑے گی کیوں کہ بھارت میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی تفتیشی ٹیم کے آنے پر اس نے اسے اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔

DW.COM