1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مودی حکومت تبدیلیوں کی خواہاں تاہم لائق سیاستدانوں کا فقدان

نئی دہلی حکومت میں نئے سال تبدیلیوں کے بارے میں قیاس آرائی کی جا رہی ہے۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر ارکان اور مودی کےایک قریبی ساتھی نے وزارتوں میں چند اہم تبدیلیوں کے امکانات کا عندیہ دیا ہے۔


بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنی پارٹی کے مستقبل کو بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے غیر معمولی دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاہم مودی کو ایک طرف تو با صلاحیت اور لائق سیاستدانوں کے فقدان کا سامنا ہے دوسری جانب دو سال قبل جن وعدوں کے سہارے وہ اقتدار میں آئے تھے انہیں پورا نہ ہوتے دیکھنے والے عوام میں مایوسی بہت زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔ دو سال قبل نریندر مودی ایک بڑی کامیابی کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم منتخب ہوئے اور انہوں نے عوام کو روز گار فراہم کرنے اور ملک کو تیزی سے ترقی کی طرف گامزن کرنے جیسے خوبصورت وعدے کیے تاہم دو سال کے اندر اندر عوام میں پائی جانے والی امید کی کرن مدھم پڑ گئی ہے۔ مودی کا سرمایہ کاری کے شعبے میں اصلاحات کا پودا بھی مُرجھا گیا اور اُن کی حکومت کے دو سال بعد بھی بھارتی معیشت ڈگمگاتی دکھائی دے رہی ہے۔

نریندر مودی اپنی کابینہ میں رد و بدل کے متمنی تو ہیں تاہم اُن کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایسے موزوں اور لائق امیدواروں کا چناؤ بنا ہوا ہے جو ملک میں تیز رفتار اصلاحات اور موثر پالیسیوں کو رائج کر سکیں۔

10. Welt Hindi-Konferenz in Bhopal Narendra Modi und Madhya Pradesh

نریندر مودی مختلف ریاستوں میں اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی تشہیر کرتے ہوئے

خوش اخلاق اور واضح سوچ کے حامل وزیر مالیات آرون جیٹلی کو دفاعی امور کی وزارت کی ذمہ داری سونپنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم کردار ہے جو بھارتی صنعت کے فروغ کے لیے مودی حکومت کی جغرافیائی اور سیاسی عزائم اور منصوبہ بندی کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ مودی کے قریبی ذرائع کے مطابق جیٹلی کو وزیر دفاع بنانے کا سوچا تو جا رہا ہے تاہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جیٹلی کی جگہ وزارت مالیات کون سنبھالے گا۔

وزیر مالیات آرون جیٹلی کے دفتر کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ انہیں کسی قسم کی تبدیلی کے امکانات کا علم نہیں ہے۔ بھارتی وزیر اعظم اپنے ہم فیصلوں کو ہمیشہ آخری وقت تک اپنی حد تک رکھتے ہیں۔ اُن کے قریبی حلقوں میں یہی کہا جاتا ہے کہ حتمی فیصلہ مودی کے پاس ہی ہے اور وہ اسے آخری وقت میں ہی منظر عام پر لائیں گے نیز یہ کہ مودی ابھی کابینہ میں تبدیلی کے بارے میں مزید غور و خوض کر رہے ہیں اور اب تک کچھ بھی یقینی نہیں ہے۔

مودی کے ایک اور قریبی ساتھی نے ان تبدیلیوں کو محض قیاس آرائیاں اور بے بنیاد افواہ قرار دیا ہے۔

Indien Streik Arbeitsmarktreformen

روزگار کی منڈی میں اصلاحات کے مودی کے پروگرام پر بھارتی عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے

مودی حکومت کی لائق اور مستعد سیاستدانوں کی تلاش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کی ہندو قوم پرست انتظامیہ کی سوچ اور رویہ بنی ہوئی ہے۔ یہ انتظامیہ کسی دوسری سوچ یا نظریے کے حامل سیاستدان، جیسے کہ لبرل یا اعتدال پسند یا بائیں بازو کے حامی سیاستدانوں سے وابستہ افراد کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر کبھی رضامند نہیں ہوئی نہ ہی اس کے مستقبل میں امکانات نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب عشروں پر محیط معتدل کانگریس پارٹی کے دور میں دائیں بازو کے دانشور اُبھر کر سامنے نہیں آ سکے ہیں جبکہ کانگریس پارٹی ہی کے دور میں لبرل اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔

بی جے پی کے نائب صدر ونے سا ہسر ُبدھے کے بقول،’’ کانگریس کے مقابلے میں ہمارا ٹیلنٹ پول بہت چھوٹا ہے تاہم یہ محض جُز وقتی ہے، ہم جلد اپنی بنیادوں کو مضبوط اور وسیع تر بنا لیں گے‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی اپنی حکومتی مشینری کی ٹیوننگ پر توجہ دے رہے ہیں اور وہ ایک واضح اشارہ دے چُکے ہیں کہ سیاسی نا اہلی پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

DW.COM