1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مودی ’بزدل اور نفسیاتی مریض‘، دہلی کے وزیر اعلیٰ کا الزام

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے دفتر پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چھاپہ مارا ہے۔ اس تناظر میں وہ ملکی وزیر اعظم نریندر مودی پر برس پڑے۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور نئی دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ’بزدل اور نفسیاتی مریض‘ قرار دیا ہے۔ ’’جب مودی مجھے سیاسی انداز میں سنبھال نہیں سکے تو انہوں نے بزدلانہ انداز اختیار کر لیا۔‘‘ بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے کیجریوال کے دفتر کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تاہم انہی کی جماعت کے ایک اور رکن کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان آر کے گور کے مطابق وزیر اعلٰی کے پرنسپل سیکرٹری راجندر کمار کے دفتر کی تلاشی لی گئی ہے۔

کمار پر ایک کمپنی کو سرکاری ٹھیکے دلوانے میں مدد کا الزام ہے۔ سی بی آئی کے مطابق اس دوران صرف راجندر کمار کے گھر اور دفتر کی تلاشی لی گئی اور کیجریوال کے دفتر کی حدود میں کوئی اہلکار داخل نہیں ہوا تھا۔

اس کے جواب میں اروند کیجریوال نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا، ’’سی بی آئی والے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ میرے دفتر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔ میرے دفتر میں موجود کاغذات کو دیکھا گیا ہے تاکہ میرے خلاف کوئی شواہد جمع کیے جا سکیں اور راجندر تو صرف ایک بہانہ تھا۔‘‘

نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی رواں برس فروری میں اقتدار میں آئی تھی اور صوبائی انتخابات میں اس جماعت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت بری طرح شکست دی تھی۔ عام آدمی پارٹی نے نئی دہلی کی ستر میں سے سڑسٹھ سیٹیں جیتی تھیں۔

کیجریوال کے وزیر اعلٰی بننے کے بعد سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین انتظامی اثر و رسوخ کے حوالے سے رسہ کشی چل رہی ہے۔ نئی دہلی شہر کی پولیس، زمین اور امن و امان کا شعبہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے اور عام آدمی پارٹی کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان نالن کوہلی کہتے ہیں کہ کیجریوال کی جانب سے احتجاج ایک بدعنوان افسر کو بچانے کے حوالے سے ایک سمجھوتہ ہے۔ ’’کیجریوال کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ بدعنوانی کو تحفظ دینا چاہتے ہیں؟ راجندر کمار ان کے دفتر میں ہے اور اس وجہ سے اسے چھاپوں سے استثنٰی حاصل نہیں ہے۔‘‘