1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مودی اور شریف کو مشکل ہدف کا سامنا، ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

چودہ اور پندرہ اگست کو اپنا اپنا یوم آزادی منانے والے ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت ان دنوں ایک بار پھر امن مذاکرات کی تیاریاں تو کر رہے ہیں مگر ان کے باہمی روابط میں کسی بڑی بہتری کے آثار بہت کم ہیں۔

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار اور شعبہء جنوب مشرقی ایشیا کے سربراہ گراہیم لوکاس کے مطابق نئے دوطرفہ امن مذاکرات کی ان تیاریوں کے برعکس کشمیر کے متنازعہ اور منقسم خطے میں نئے پرتشدد واقعات کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے روابط دراصل مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

گراہیم لوکاس اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں: ماضی قریب میں ایسے اشارے موجود تھے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کئی سالہ دشمنی اور شکوک و شبہات کی خلیج کو عبور کرتے ہوئے مغربی ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے گزشتہ برس مئی میں سربراہ حکومت کے طور پر اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو دعوت دے کر ایک غیر معمولی قدم اٹھایا اور نواز شریف نے اس تقریب میں شرکت کی بھی تھی۔

پھر گزشتہ مہینے جولائی میں روس میں نریندر مودی کی نواز شریف کے ساتھ جو تازہ ترین ملاقات ہوئی، اس میں اس بارے میں اتفاق کیا گیا کہ دونوں ملک باہمی امن مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کریں گے۔

گراہیم لوکاس کے مطابق ان کاوشوں کے باوجود نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین روابط میں واضح بہتری کے امکانات بظاہر بہت کم ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ نریندر مودی اور نواز شریف کو مشترکہ طور پر جس مشکل ہدف کا سامنا ہے، اس کے کٹھن ہونے کو کم اہم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دونوں ہی ریاستوں میں مصالحت اور مفاہمت پسندانہ سوچ کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ دونوں ہی ملک ایک دوسرے سے ایسی رعایتوں کے مطالبے کر رہے ہیں جو یا تو دی نہیں جا سکتیں یا جو دوسرا ملک دینا نہیں چاہتا۔

Lucas Grahame Kommentarbild App

گراہیم لوکاس

بھارتی خارجہ پالیسی کی فیصلہ کن شخصیات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو نئی دہلی اس بات کے شواہد کا متقاضی ہے کہ پاکستان واقعی امن مذاکرات اور پھر قیام امن کے بارے میں سنجیدہ ہے اور بھارت کی طرح اسی سود مند بہتری کا خواہش مند ہے جو دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے سے دیکھنے میں آئے گی۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کو بھارت کے ساتھ کشیدگی کی ضرورت اس لیے ہے کہ وہ پاکستان میں داخلی طور پر اپنے غالب کردار کے تسلسل کو یقینی بنا سکے۔

ایک اور رکاوٹ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی طرف سے ابھی تک اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا جاتا ہے کہ اس کا 2008ء میں ممبئی میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں میں کوئی کردار تھا۔ اس سلسلے میں کسی ملزم کو بھارت کے حوالے کرنا تو دور کی بات ہے، ابھی تک پاکستان میں بھی کسی کو سزا نہیں سنائی جا سکی۔

کالعدم لشکر طیبہ کا رہنما حافظ سعید ایک ایسا جہادی لیڈر ہے جس نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو ’آزاد‘ کرانے کو اپنا مقصد قرار دے رکھا ہے، جس کے سر کی امریکا نے دس ملین ڈالر قیمت مقرر کر رکھی ہے لیکن جو لاہور میں پولیس کی حفاظت میں رہائش پذیر ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے خارجہ اور سلامتی امور کے مشیر سرتاج عزیز 23 اگست کو بھارت جائیں گے، جہاں دونوں ملکوں کے مابین نئی دہلی میں امن مذاکرات ہوں گے۔ لیکن اس بات چیت کے حوالے سے یہ امکان بھی کافی زیادہ ہے کہ دونوں ملک اپنی اپنی سوچ کی لکیروں پر ڈٹے رہنے کی کوشش بھی کریں گے، جس کا مطلب ہے کم لچکدار رویہ۔

اگر پاکستان اور بھارت کی طرف سے آپس میں لگائے جانے والے ایک دوسرے کے ہاں مداخلت کے الزامات ہی کے پس منظر میں دیکھا جائے تو امن مذاکرات میں کم لچکدار رویے کا مطلب یہی ہو گا کہ نواز شریف اور نریندر مودی کا قیام امن کا ہدف ایک کٹھن منزل ہے، جو کٹھن ہی ثابت ہو گا۔

DW.COM