1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

موجودہ عالمگیریت کا مقدر زوال ہی ہے: جرمن ماہر

زیادہ سے زیادہ ماہرینِ اقتصادیات کا خیال یہ بھی ہے کہ ہم اقتصادی ترقی کی آخری حدود تک پہنچ چکے ہیں۔ اُن کے خیال میں اب زیادہ توجہ ایسی پائیدار ترقی پر دی جانی چاہئے، جس میں ماحول کا بھی خیال رکھا گیا ہو اور وسائل کا بھی۔

default

فضا آلودہ کرتی گیسیں

ابھی تک صورتِ حال یہ ہے کہ دُنیا بھر کے سیاستدان اِس کوشش میں رہتے ہیں کہ اپنے ملک کی اقتصادی ترقی کی شرحوں کو اور اوپر لے جائیں۔ اِس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ پہلے کی طرح آج بھی اقتصادی ترقی ہی کوکسی حکومت کی سرگرمیوں کو ماپنے کی اہم ترین کسوٹی تصور کیا جاتا ہے تاہم اب کچھ ماہرین ایسی پائیدار ترقی کی وکالت کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اگر مجموعی قومی پیداوار کم بھی ہوتی ہے تو اُلٹا یہ بات خوش آئند ہے۔

نِیکو پَیش اِسی طرح کی معیشت کے نمائندے ہیں۔ اُن کے پاس نہ کوئی کار ہے، نہ ٹیلی وژن اور نہ ہی کوئی موبائیل فون لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ بیرونی دُنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ اُلٹا صورتِ حال یہ ہے کہ اولڈن بُرگ شہر کے اِس ماہرِ اقتصادیات کو مختلف سیمینارز اور مباحثوں میں بلایا جاتا ہے۔ وہ اکثر ریل گاڑی میں کبھی کہیں اور کبھی کہیں جا رہے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ریل کا سفر، کار پر سفر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ماحول دوست ہے لیکن اُن کے خیال میں وہ پھر بھی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے مرتکب ہو رہے ہیں:’’آج کل مَیں سالانہ تقریباً 4.5 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ذمہ دار بنتا ہوں۔‘‘

Prof. Niko Paech

اولڈن برگ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ اقتصادیات نیکو پَیش

اگر وہ لیکچرز وغیرہ دینے کے لئے اتنے زیادہ سفر نہ کریں تو اُن کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی مقدار تین ٹن سے بھی نیچے آ سکتی ہے اور یوں وہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر زمینی درجہء حرارت میں اضافے کو دو سینٹی گریڈ تک رکھنے کے ہدف پر بھی پورا اُتر رہے ہوں گے۔ سائنسدانوں نے دراصل اندازہ لگایا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا فی کس اخراج تین ٹن سے کم رہنے کی صورت میں یہ ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج کل جرمنی میں ماحول کے لئے ضرر رساں اِس گیس کا فی کس اوسط اخراج تقریباً گیارہ ٹن بنتا ہے۔

نِک پَیش بتاتے ہیں:’’جو ممالک ہمارے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے  فی کس محض ایک تہائی اخراج کے ذمہ دار ہیں، ہم کیسے اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ دُنیا کو بچانے کے لئے اور ماحول کے تحفظ کے لئے یہ ہونا چاہئے، وہ ہونا چاہئے۔ ہم چین اور بھارت میں بسنے والے انسانوں کو یہاں جرمنی میں اپنے عمل سے ہی ثابت کر کے یہ دکھا سکتے ہیں کہ کیسے انسان سال میں محض تین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا باعث بن کر ایک گنگناتی، خوشگوار اور مطمئن زندگی گذار سکتا ہے۔‘‘

Screenshot Globalisierungsgegner

عالمگیریت کے مخالفین کو جہاں موقع ملتا ہے، وہ اپنے نظریات کا بھرپور پرچار کرتے ہیں۔ اُن کے زیادہ تر مظاہرے بڑے امیر ملکوں کی سربراہ کانفرنسوں کے موقع پر عمل میں آتے ہیں

نِک پَیش کی تجویز یہ ہے کہ ہمیں بہت سی چیزیں ترک کر دینی چاہئیں:’’اب تک ایسا تھا کہ انسان اِس جدید دور میں آزادی کی اصطلاح کی تعریف ان سوالات کی روشنی میں کیا کرتا تھا کہ ابھی وہ اور کیا کیا کچھ کرنے کی استطاعت رکھتا ہے، وہ ابھی اور کیا کیا کچھ خرید سکتا ہے؟ ترک کرنے کے دَور کا مطلب ہو گا، اِس پیشرفت سے گریز یا واپسی یعنی انسان یہ کہے کہ مَیں ایسے کون سے بوجھ سے نجات حاصل کر سکتا ہوں، جس پر مجھے وقت، پیسہ، جگہ، توجہ اور ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی وسائل بھی خرچ کرنا پڑتے ہیں۔‘‘

نیکو پَیش کے مطابق جب ایک طرف لوگ ’اَشیائے صرف کے اِس بوجھ‘ سے چھٹکارا پا رہے ہوں گے، وہیں دوسری طرف صنعتی شعبے کے حجم میں بھی نصف کمی کرنا ہو گی:’’جرمنی کو عالمگیریت سے واپسی کا سفر شروع  کرنا ہو گا۔ آج کل جو عالمگیریت ہم دیکھ رہے ہیں، اُس میں بطور صارِف میرے اور بہت سی پیداواری کمپنیوں کے درمیان فاصلے زیادہ سے زیادہ بڑے اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اِس دوران ایسے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جن کا انحصار توانائی پر ہے۔ اِس عالمگیریت کا زوال ہی مقدر ہے۔‘‘

اِس کی وجہ بتاتے ہوئے نِیکو پَش کہتے ہیں کہ توانائی کی قیمتیں ڈرامائی طور پر بڑھتی جا رہی ہیں:’’ایک وقت آئے گا، جب وہ مصنوعات بالآخر سستی ہوں گی، جو ہمارے اپنے علاقے سے آئیں گی۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ ابھی بھی صارفین کو اپنی علاقائی مصنوعات زیادہ خریدنی چاہئیں کیونکہ اِن مصنوعات کو آپ تک پہنچنے میں کم فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور یوں اُن پر توانائی کی مد میں اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔ نِیکو پَیش اور اُن کے حامی جس ماحولیاتی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اُس میں توانائی کے شعبے کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور اِسی لئے وہ قابلِ تجدید توانائیوں کو رواج دینے کی پُر زور وکالت کر رہے ہیں۔

رپورٹ: ژانگ ڈان ہونگ (ڈوئچے ویلے) / امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس