1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’موت کے سوداگروں کے ليے کوئی رعايت نہيں‘

اطالوی حکام نے وسيع پيمانے پر کارروائياں کرتے ہوئے درجنوں ايسے افراد کو حراست ميں لے ليا ہے جن پر شبہ ہے کہ وہ ہزاروں افراد کو غير قانونی طور پر يورپ اسمگل کرنے ميں ملوث رہے ہيں۔

اٹلی کے وزير داخلہ انجيلينو الفانو نے اتوار اور پير کی درميانی شب اپنے ايک ٹوئٹر پيغام ميں لکھا، ’’انسانوں کی اسمگلنگ ميں ملوث ايک خطرناک جرائم پيشہ نيٹ ورک کا خاتمہ کر ديا گيا۔ موت کے سوداگروں کے ليے کوئی رعايت نہيں۔‘‘ قبل ازيں اطالوی حکام نے دارالحکومت روم، سِسلی اور ملک کے شمالی حصوں ميں مختلف کارروائيوں کے دوران ايتھوپيا کے بارہ، اريٹريا کے پچیس اور اٹلی کے ایک شہری کو حراست ميں لے ليا تھا۔ ان مشتبہ انسانی اسمگلروں کو اريٹريا کے ايک بتيس سالہ ملزم کی جانب سے مہيا کردہ خفيہ معلومات کے نتيجے ميں گرفتار کيا گيا، جس نے حکام کو يہ معلومات اپنی حفاظت يقينی بنانے کے عوض فراہم کيں۔ اسے حکام نے دو برس قبل گرفتار کيا تھا۔

اطالوی حکام کے ساتھ تعاون کرنے والے اس شخص نے بتايا، ’’ميں نے حکام کے ساتھ تعاون کا فيصلہ ہلاکتوں کی بہت بڑی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے کيا۔‘‘ اس نے دعویٰ کيا کہ پناہ کے سفر ميں بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والوں کی ذرائع ابلاغ پر سامنے آنے والی تعداد، حقيقت ميں ہلاک ہونے والوں کے ايک معمولی حصے کے برابر ہيں۔‘‘

پوليس نے بتايا کہ متعلقہ شخص کی گواہی کی مدد سے حکام شمالی افريقہ، اٹلی اور متعدد ديگر يورپی ملکوں ميں سرگرم انسانوں کے اسمگلروں کے بارے ميں تفصيلی معلومات پہلی مرتبہ جمع کر سکے ہيں۔ اس شخص نے تفصيل کے ساتھ حکام کو بتايا کہ کس طرح مطلوبہ رقم کم پڑنے پر اسمگلر پناہ گزينوں کو قتل تک کر دينے ميں ذرا بھی نہيں کتراتے اور کس طرح بعض اوقات مہاجرين کو يورپ تک کے سفر کے ليے اپنے اعضاء تک بيچنے پڑ جاتے ہيں۔

ايک اور انکشاف ميں اطالوی حکام نے اس شخص ہی کے حوالے سے بتايا کہ اسمگلر ’خط‘ نامی نشہ آور شے بھی يورپ اسمگل کر رہے ہيں اور ہجرت کے ليے جعلی شاديوں تک کا ڈھونگ رچاتے ہيں۔

يورپ کو ان دنوں مہاجرين کے بحران کا سامنا ہے اور سن 2014 سے اب تک دس ہزار کے قريب افراد بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہيں۔

ملتے جلتے مندرجات