1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موت کا سوداگر رہائی کا متلاشی

اسلحے کا روسی نژاد اسمگلر وکٹوربوؤٹ (Viktor Bout) ان دنوں ایک امریکی جیل میں قید ہے۔ اس کو اسلحے کی بے پناہ اسمگلنگ کے باعث موت کے سوداگر یا مرچنٹ آف ڈ یتھ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

default

وکٹو بوؤٹ جیل میں

وکٹو بوؤٹ کا ایک انٹرویو جیل سے ریلیز کیا گیا ہے۔ اس میں موت کے تاجر اس روسی نے ماسکو حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی حکام پر سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈال کر اس کی رہائی کے اسباب پیدا کرے۔ یہ انٹرویو روس کے تجارتی اخبار کومرسانٹ (Kommersant) میں شائع ہوا ہے۔ بوؤٹ کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نائب صدر جو بائیڈن روس کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ جمعرات کو روسی وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں اسلحے کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث روسی شہری بوؤٹ کا کہنا تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی ان دنوں بہت اتار چڑھاؤ کا شکار ہے اور اس کو مکمل یقین ہے کہ اس کا معاملہ فوری طور پر امریکی حکام روسی حکومت کے ساتھ زیر بحث نہیں لائیں گے۔ بوؤٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اس کے معاملے کو روسی پارلیمنٹ ڈُوما کے علاوہ سکیورٹی کونسل میں زیر بحث لایا جائے تو یہ ان کے لیے اطمینان کا باعث ہو گا۔

NO FLASH Mutmaßlicher Waffenhändler Bout in den USA eingetroffen

وکٹو بوؤٹ امریکی پولیس کے کنٹرول میں

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی جیل میں روسی اسلحے کے تاجر پر شبے کیا جاتا ہے کہ وہ موجودہ یا سابقہ روسی حکومت کے عہدیداران کے نام افشاء نہ کر دے جو اس کے ساتھ اسمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث رہے ہیں۔ ان کے مطابق روسی حکومت وکٹور بوؤٹ کے تبادلے میں مخفی انداز میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اُدھر روسی خبر ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق بوؤٹ کا تبادلہ روس میں مقید Andrei Khlychev کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا خیال ہے کہ بوؤٹ دنیا بھر میں غیر قانونی اسلحے کے کاروبار میں ملوث افراد میں سے ایک ہے۔ اس کو مارچ سن 2008 میں تھائی لینڈ کے ایک علاقے سے گرفتار کر کے قانون نافذ کرنے والے امریکی اداروں کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ وہ ان دنوں امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع ایک جیل میں سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

کئی مغربی اخبارات کے مطابق بوؤٹ سن 1980کی دہائی میں موزمبیق میں تعینات موجودہ روسی نائب وزیر اعظم ایگور سیچن (Igor Sechin) کے ساتھ کام کر چکاہے۔ یہ چوالیس سالہ تاجر اقوام متحدہ کی مشتبہ افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ اس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کو غیرقانونی اسلحے کی ترسیل کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے گاہکوں میں لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ کئی اور ملکوں کے باغی گروپ بھی اس سے اسلحہ حاصل کرتے رہے تھے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس