1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موت صرف ایک گھنٹہ قبل ٹل گئی

امریکی سپریم کورٹ نے ایک مجرم ہینری اسکنر کی سزائے موت پر عمل درآمد رکوا دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ سزا پر عمل درآمد سے محض ایک گھنٹہ قبل جاری کیا۔

default

اسکنر پر اپنی گرل فرینڈ اور اس کے دو بیٹوں کے قتل کا الزام ہے۔ اسے 1995ء میں امریکی ریاست ٹیکساس میں مجرم قرار دیتے ہوئے اس کے لئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ تاہم اس نے ایک مرتبہ پھر خود کو بے قصور ٹھہراتے ہوئے نئے DNA ٹیسٹ کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس کی اپیل کے بعد ہی دیا ہے۔

Frankreich Wirtschaft Banken Nicolas Sarkozy

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے ہینری اسکنر کی اپیل کی حمایت کی ہے

اسکنر اپنے سیل میں موت کا منتظر تھا، جب اسے عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ خبررساں ادارے AP کے مطابق یہ خبر ملنے پر اسکنر نے کہا، ’میں خود کو موت کے لئے تیار کر چکا تھا۔‘

اس نے یہ بھی کہا کہ وہ ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کروانا چاہتا ہے تاکہ اس کی بے گناہی ثابت ہو سکے اور وہ رہائی پا سکے۔ اس نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے اسے بہت سکون ملا ہے بلکہ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ جیت گیا ہو۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق 47 سالہ اسکنر کی سزائے موت پر عمل درآمد تو مؤخر ہوا ہے، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس کے لئے یہ ٹیسٹ نئے سرے سے کرانے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

اسکنر سزائے موت کے خلاف کام کرنے والی ایک فرانسیی کارکن کے شوہر ہیں۔ ان کی اپیل کو فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر نے بھی ٹیکساس کے گورنر سے اسکنر کو معاف کرنے یا اس کی سزائے موت روکنے کے لئے کہا تھا۔

رپورٹ : ندیم گِل

ادارت : افسر اعوان

DW.COM