1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

موبائل فون کمپنیاں بھی ٹیلی کوم اسکینڈل میں ملوث، پولیس

بھارتی پولیس نے دو موبائل فون کمپنیوں کو بھی ٹیلی کوم اسکینڈل میں ملوث قرار دیا ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے موبائل فون لائسنسوں کے لیے غیرمنصفانہ حد تک کم قیمت ادا کی۔

default

بھارتی پولیس نے ملک کی جن دو موبائل فون کمپنیوں پر یہ الزام عائد کیا ہے، ان کی جزوی ملکیت ناروے کی ٹیلی کوم کمپنی ٹیلی نار اور متحدہ عرب امارت کی کمپنی اتصلات کے پاس ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے ایک وکیل کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2008ء میں لائسنس دیے جانے کے موقع پر موبائل فون کمپنیوں سوان اور یونی ٹیک کو غیرضروری طور پر فوقیت دی گئی۔

جمعرات کو خصوصی سرکاری استغاثہ Akhilesh نے نئی دہلی میں عدالت کو بتایا، ’لائسنس دینے کے عمل میں غیرضروری طور پر فائدہ پہنچانے کا رویہ برتا گیا اور لائسنس انتہائی کم قیمت پر دے دیے گئے۔‘

عدالت میں سابق وزیر ٹیلی مواصلات اے ارجا اور ان کی سابق وزارت سے دو عہدے داروں کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک علیٰحدہ مقدمے کی سماعت بھی ہو رہی ہے، جو ایک غیرسرکاری گروپ نے دائر کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سوان اور یونی ٹیک کو دیے گئے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں۔ عدالت نے ان کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اجازت ناموں کا دفاع کریں۔

اے راجا کو بدعنوانی کے الزام میں اسی ہفتے گرفتار کیا گیا ہے۔ بدعنوانی سے متعلق اسے بھارت کا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے، جو 2008ء میں 2G موبائل فون لائسنسوں کی فروخت کے نتیجے میں سامنے آیا۔

A. Raja Indien Kommunikation Information Technik Minister

سابق بھارتی وزیر اے راجا

بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے راجا کے سابق پرائیویٹ سیکریٹری سدھارتھ بہورا کو بھی گرفتار کیا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق قبل ازیں محکمہ ٹیلی مواصلات کے نامعلوم اہلکاروں، کمپنیوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جن پر فوجداری قوانین اور اینٹی کرپشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام تھا۔

گزشتہ برس سی بی آئی نے اعلان کیا تھا کہ ٹیلی کوم اسکینڈل کے اس مقدمے کی تحقیقات رواں برس مارچ تک مکمل ہوں گی۔بھارت میں حکمران جماعت کو اس ٹیلی کوم اسکینڈل نے پریشان کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ اپوزیشن پارٹیوں کا دباؤ رہا ہے، جو دہلی حکومت سے اس اسکینڈل کے حوالے سے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسی بناء پر پارلیمان کی کارروائی بھی معطل رہی ہے۔ اس اسکینڈل کو ملک کے سیاسی حلقوں کی مزید بدنامی کا باعث بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس