1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’موبائل فون ایپ کے ذریعے زچگی‘

افریقی ملک ایتھوپیا میں ہر دس میں سے نو بچوں کی پیدائش گھر پر ہوتی ہے۔ ان خواتین کے پاس میڈیکل سپورٹ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے لیکن اب ایک موبائل ایپ ان کی زندگیاں بچا رہی ہے۔

’سیو ڈیلیوری ایپ‘ ڈنمارک کی ایک ترقیاتی تنظیم ’میٹرینٹی فاؤنڈیشن‘ کی طرف سے تیار کی گئی ہے۔ اس ایپ میں انتہائی آسان طریقے سے ہدایات دی گئی ہیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیےاینی میٹڈ فلمیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اس ایپلیکیشن میں واضح اور آسان طریقے سے بیان کیا گیا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دوران کون سی پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں اور نومولود بچوں کو کیسے انفیکشن سے بچایا جا سکتا ہے۔

میٹرینٹی فاؤنڈیشن کی پروگرام مینیجر میس فِن وُنڈافریش کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’دائیوں کے پاس علم اور صلاحیت ہو سکتی ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ وہ پیچیدگی کے دوران وہ صحیح طریقہ کار استعمال نہیں کرتیں، یہاں تک کہ عام سی پیچیدگی میں بھی۔‘‘

صرف ایک بٹن دبانے سے دائی کو ہدایات ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ دائیاں روایتی طور پر تجربہ رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس جدید تربیت کی کمی ہوتی ہے اور یہ ایپ ان کی جدید تربیت میں مدد فراہم کرے گی۔ یہ ایپ ان دیہاتی علاقوں میں مزید مدد گار ثابت ہو رہی ہے، جہاں روایتی تربیت یافتہ دائیوں کی بھی کمی ہوتی ہے اور بچے کی پیدائش کسی مقامی یا گھریلو خاتون کی مدد سے ہی کی جاتی ہے۔

ایتھوپیا میں اس ایپ کو ’ایمرجنسی ٹریننگ ٹول‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ مقامی زبان کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی موجود ہے۔ اس ایپ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ موبائل فون پر پہلے سے ہی انسٹال کی جا سکتی ہے اور اسے چلانے کے لیے کسی بھی نیٹ ورک کنکشن یا انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایتھوپیا میں پچاسی فیصد بچوں کی پیدائش گھر پر ہی ہوتی ہے اور زچہ کو صرف اسی صورت میں ہسپتال لایا جاتا ہے، جب صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہوتی ہے اور اکثر اوقات اس وقت زچہ و بچہ کی زندگیوں کو بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔

تجرباتی طور پر اس ترقیاتی تنظیم نے اٹہتر دائیوں کو ایسے موبائل فونز فراہم کیے تھے، جن پر یہ ایپ انسٹال کی گئی تھی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران زچگی کے دوران بلیڈنگ کو کم کرنے کے واقعات میں میں بیس سے ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ خطرے سے دوچار تیس سے ستّر فیصد بچوں کی زندگیاں بچائی گئی ہیں۔ پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کی وجہ سے سالانہ تقریباﹰ تین لاکھ مائیں اور پچاس لاکھ نومولود بچے موت کی منہ میں چلے جاتے ہیں۔