1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

من موہن کا دورہء ریاض، توانائی کے شعبے پر توجہ

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ من موہن ان دنوں سعودی عرب کے تین روزہ تاریخی دورے پر ریاض میں موجود ہیں۔

default

سعودی تاجروں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر تیل خریدنے اور بیچنے سے بڑھ کر توانائی کے شعبے میں جامع شراکت داری کی جانب بڑھنا چاہیے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اس سے قبل سعودی عرب کے وزیر تیل علی ال نعیمی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر سنگھ نے توانائی کے شعبے میں Clean Technology ’صاف تکنیک‘ میں دو طرفہ تعاون بڑھانے سے متعلق منصوبہ پیش کیا جس کی تفصیلات میڈیا کو نہیں بتائی گئیں۔

Indira Gandhi

سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی

سعودی عرب دنیا بھر کو تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ریاض بھارت کو خام تیل فراہم کرنے والا سرفہرست ملک ہے جبکہ یہاں موجود ستر لاکھ بھارتی شہری ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

من موہن سے قبل آنجہانی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے 1982ء میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ سعودی عرب میں تین روزہ قیام کے دوران بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ دہلی سرکار کے وزیر صحت و خاندانی بہبود غلام نبی آزاد، وزیر تیل و قدرتی وسائل مرلی دیوڑا، وزیر صنعت وتجارت آنند شرما، وزیر مملکت برائے امور خارجہ ششی تھرور سمیت متعدد دیگر اعلیٰ حکام بھی ہیں۔

یاد رہے کہ دہلی نے سعودی فرماں رواں شاہ عبداللہ کو 2006ء میں بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا تھا۔ اس موقع پر ’اعلامیہ دہلی‘ پر بھی دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت دو طرفہ ’سٹریٹیجک تعلقات‘ کے فروغ کا اعادہ کیا گیا تھا۔

OPEC Sitzung in Isfahan

سعودی عرب کے وزیر تیل علی ال نعیمی

سعودی عرب میں بھارتی سرمایہ کاری کا تخمینہ دو ارب ڈالر کے قریب ہے جس کے تحت پانچ سو مشترک منصوبوں پر کام جاری ہے۔ دو طرفہ تجارت کا اندازہ پچیس ارب ڈالر ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مطابق نئی دہلی کی خواہش ہے کہ سعودی عرب بھارت میں زراعت، توانائی، تعمیرات اور ادویات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اس موقع پر ملکی معیشت میں سات تا نو فیصد نمو کی امید کا اظہار کیا۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت گوہر نذیر گیلانی

DW.COM