1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

من موہن سنگھ DMK کو منانے کی کوششوں میں

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اپنی مخلوط حکومت میں شامل علاقائی اتحادی جماعت ڈی ایم کے کو منانے کی پوری کوششیں کر رہے ہیں، جس نے کل ہفتہ کو حکومتی اتحاد سے اپنے اخراج کا اعلان کر دیا تھا۔

default

بھارتی وزیر اعظم سنگھ، پس منظر میں کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی، فائل فوٹو

نئی دہلی میں کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں قائم متحدہ ترقی پسند اتحاد UPA کی مخلوط حکومت کی حمایت سے انکار کر دینے والی یہ علاقائی جماعت تامل ناڈو کی ایک طاقتور سیاسی پارٹی ہے۔

اس جماعت کے ساتھ کانگریس پارٹی کے اختلافات کی ایک بڑی وجہ ملک میں ٹیلی کوم کے شعبے کا وہ بہت بڑا مالی اسکینڈل بھی ہے، جس نے سنگھ حکومت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

Tamil Nadu und Karunanidhi

ڈی ایم کے کے صدر، وہیل چیئر پر، تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بھی ہیں

اس اسکینڈل کے سلسلے میں DMK نامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھارت میں ٹیلی کمیونیکیشن کے سابقہ مرکزی وزیر اے راجہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔ ڈی ایم کے نے من موہن سنگھ کی حکومت سے اپنے اخراج کا فیصلہ گزشتہ شام کیا تھا۔ اسی لیے آج اتور کو وزیر اعظم من موہن سنگھ کی یہ پوری کوشش ہے کہ کسی طرح اس پارٹی کو مرکز میں موجودہ مخلوط حکومت سے علیحدگی سے روکا جائے۔

دونوں پارٹیوں کے درمیان تازہ ترین اختلافات اپریل میں تامل ناڈو میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے آئندہ انتخابات کے سلسلے میں دیکھنے میں آئے تھے۔ یہ نئے اختلافات اس بارے میں تھے کہ دو اتحادی جماعتوں کے طور پر تامل ناڈو میں الیکشن سے قبل کانگریس پارٹی اور DMK کے درمیان سیٹوں کی ممکنہ تقسیم کیسے ہونی چاہیے۔

Tamil Nadu

پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل، بائیں، تامل ناڈو کے نائب وزیر اعلیٰ بھی ہیں

نئی دہلی میں کانگریس پارٹی کے سیکریٹری جنرل غلام نبی آزاد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آج اتوار کو جنوبی بھارتی شہر چنئی جا رہے ہیں، تاکہ وہاں اس تامل سیاسی جماعت کی قیادت کے ساتھ مل کر موجودہ بحران کو حل کرنے کی کوشش کر سکیں۔

من موہن سنگھ کابینہ میں DMK کے وزراء کے پاس متعدد وزارتیں موجود ہیں لیکن اس پارٹی نے ابھی تک یہی فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ یہ وزیر کابینہ میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ان وزراء نے عملی طور پر اپنے عہدوں سے استعفے ابھی تک نہیں دیے۔

ڈاکٹر من موہن سنگھ کی حکومت کو ڈی ایم کے کی حمایت سے محروم ہو جانے کے بعد فوری طور پر اپنی پارلیمانی ناکامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن اس علاقائی سیاسی پارٹی کا حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان سنگھ حکومت کے لیے اس لیے بہت بڑا دھچکہ ہے کہ اسے پارلیمان میں انتہائی معمولی اکثریت حاصل ہے۔

UPA کی من موہن سنگھ حکومت کو بھارتی ایوان زیریں یا لوک سبھا میں 543 سیٹوں میں سے 272 نشستیں حاصل ہیں، جو ایک منتخب جمہوری حکومت کو حاصل کم سے کم ممکنہ نوعیت کی پارلیمانی اکثریت بنتی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس