1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

من موہن سنگھ روس کے دورے پر

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ روس کے سالانہ دورے پر ماسکو پہنچ گئے ہیں

default

اُن کے حالیہ دورے کا ایک اہم مقصد دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی میں تعاون کے منصوبے کو حتمی شکل دینا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کے زمانے سے دیرینہ تعلقات قائم ہیں۔

سال دو ہزار میں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک تعاون کے ایک معاہدے کے تحت روس اور بھارت کے سربراہان ہر سال ایک مرتبہ ملاقات کرتے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے اب تک من موہن سنگھ کا یہ چھٹا دورہء روس ہے۔

Abkommen zwischen Indien und den USA erlaubt Handel mit Kernmaterial

بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے پر عوامی جشن۔ فائل فوٹو

اپنے اِس سہ روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم پیر کے دن روسی صدر دمتری میدویدیف اور وزیراعظم دلادی میر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔

بھارتی وزیر اعظم حال ہی میں امریکہ کا دورہ کر کے واپس بھارت پہنچے تھے۔ دونوں ایشیائی طاقتوں کے سربراہان کی ملاقات میں پاکستان، افغانستان اور ایران کی صورتحال پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

من موہن سنگھ کے بقول روس اور بھارت کی شراکت داری اور دوستی کی بنیاد اعتماد اور مشترکہ مفاد کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ ماسکو روانگی سے قبل جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ روسی قیادت سے ملاقاتوں میں وہ جوہری توانائی، دفاع، خلائی سائنس اور دو طرفہ تجارت سمیت دیگر امور پر بھی بات کریں گے۔

بھارتی حکام کے مطابق جوہری توانائی کے لئے روس سے یورینیم کے حصول لئے بات چیت حتمی مرحلے میں ہے اور وزیراعظم سنگھ کے حالیہ دورے میں ہی حتمی معاہدہ طے ہونے کا امکان ہے۔ بھارت جوہری توانائی کے حصول کے لئے فرانس اور امریکہ سے اس نوعیت کے معاہدے پہلے ہی کر چکا ہے جبکہ کینیڈا کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ روس کے تعاون سے جنوبی بھارتی ریاست تامل ناڈو میں دو جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ روسی صدر میدویدیف نے حالیہ دورہء بھارت میں اسی مقام پر چار مزید جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کے سمجھوتے پر دستخط کئے تھے۔

Wladimir Putin in Indien mit Manmohan Singh

روسی صدر ولادی میر پوٹن اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ۔ فائل فوتو

جوہری توانائی کی تجارت سے متعلقہ عالمی گروپ Nuclear Supplier Group کی جانب سے بھارت پر چونتیس سال تک عائد پابندی کے خاتمے میں روس کا کردار اہم رہا ہے۔

امکان ہے کہ حالیہ دورے میں بھارتی وزیر اعظم کی روسی حکام سے سوویت دور کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز کی خریداری سے متعلق تنازعے پر بھی بات ہو۔ نئی دہلی نے پانچ سال قبل ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے تحت یہ جہاز خریدنے کا سودا کیا تھا تاہم ماسکو کی جانب سے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر مزید کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ روس بھارت کو دفاعی تعاون فراہم کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے،جس کے بعد فرانس اور اسرائیل کا نمبر آتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان

ادارت : امجد علی

DW.COM