1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’منی بدنام ہوئی‘ : پاکستانی گانے کی دھن کی بھارت میں نقل

ان دنوں پاکستان اور بھارت کے فلمی حلقوں میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم دبنگ کا ایک مقبول گیت " منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیئے" متنازعہ حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

default

بھارتی اداکار ہ ملائکہ اروڑا

آجکل پاکستان کے گلی کوچوں میں گونجنے والےاس مقبول گیت کو جب اٹھارہ سال پہلے پاکستانی کے معروف اسٹیج پر فورمر اور فنکارعمر شریف نے ایک پاکستانی فلم مسٹر چارلی میں قوالی کے طور پر گایا تھا تو اس کا کسی نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا۔ اب بھارتی فلم دبنگ میں اس گانے کی دھن پر جس گیت کو شہرت حاصل ہوئی ہے وہ ایک تنازعہ بن گیا ہے۔

Indien Schauspielerin Model Malaika Arora Khan

‘‘منی بدنام ہوئی’’ گانے پر ملائکہ اروڑا نے رقص کیا ہے

پاکستانی فنکار عمر شریف کہتے ہیں کے انہوں نے یہ گیت " لڑکا بدنام ہوا حسینہ تیرے لیئے" خود لکھا تھا اور خود ہی گایا تھا مسٹر چارلی نامی فلم کے فلمساز پرویز کیفی نے ڈوئچے ویلی کو بتایا اب ان کی فلم کے اس گانے کی دھن بلا اجازت بھارتی فلم کے گانے میں معمولی ردوبدل کے ساتھ استعمال کر لی گئی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔

پاکستانی موسیقار وزیر افضل کہتے ہیں کہ بھارتی فنکاروں کی طرف سے پاکستانی گیتوں کی نقل کا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے ان کے مطابق خود انکے پانچ گانے بھارتی فلموں میں کاپی کئے جا چکے ہیں ۔ نصرت فتح علی خان اور میڈم نورجہاں کے کئی گانے بھی بھارت میں کاپی کئے جا چکے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ایک پاکستانی ہدایت کار شعیب منصور نے "دھن ہماری آپ کے نام ہوئی" کے عنوان سے ایک ڈاکومنٹری تیار کی تھی اس ڈاکومنٹری میں سو سے زائد ایسے پاکستانی گانوں کی نشاندہی کی گئی تھی جنہیں بھارت میں کاپی کیا گیا تھا۔

Die indische Bollywoodschauspielerin Diya Mirza

پاکستان میں بھارتی فلموں کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے

پاکستانی موسیقار وزیر افضل کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے فنکاروں کی طرف سے گیتوں کی چوری سے اصل فنکاروں کی حق تلفی ہوتی ہے اس لئے حکومتی سطح پر اس کے تدارک کے لئے کام ہونا چاہیئے مگر ایک پاکستانی نغمہ نگار خواجہ پرویز کہتےہیں کے پاکستان اور بھارت دونوں ہمسائے ہیں دونوں کی طرف سے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اس پر زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ان کے مطابق یہ واقعات پروفشنل بد اخلاقی اور فنی زوال کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس گانے کے بولوں کے مطابق اگرچہ منی اور لڑکا بدنام ہوا ہے لیکن اس گیت کو چرانے والوں کی نیک نامی میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

رپورٹ : تنویر شہزاد،لاہور

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM