1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منیلا : کوڑے کے ڈھیر پر پلنے والے انسان

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کی کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو اگر بیماریاں آن گھیریں، تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا-

default

پانچ بچوں پر مشتمل ایک خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے 2 یورو کی روزانہ آمدنی کافی ہونی چاہئے- فلپائن کے جنوب مشرقی ساحلی علاقے میں آباد انسان ایک بہتر زندگی کی امید لگائے ہوئے ہیں- تاہم فلپائن کے دارالحکومت منیلا کی کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو اگر بیماریاں آن گھیریں، تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا- یہ مریض نہ توڈاکٹر اور نہ ہی ادویات کے اخراجات برداشت کرنےکی استطاعت رکھتے ہیں- فلپائن میں حکومت کی طرف سے ہیلتھ انشورنس کے وعدوں کے باوجود بہت ہی کم شہریوں کو یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے- اس وجہ سے بہت سے فلپینی باشندے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ’جو بیمار پڑا، وہ جان سے گیا‘۔

Flash-Galerie Soziale Sicherheit Müllhalde auf den Philippinen

فلپائن میں کوڑے کے ڈھیر پر کام کرنے والے ہر عمر کے انسان

منیلا کی کچی آبادی کے مکین کوڑے کرکٹ کے انبار، جنہیں اسموکی ماؤنٹینز کہا جاتا ہے، میں کام کرتے ہیں۔Antonio Flores گھٹنوں کے بل زمین پر کھڑا ہے اور کوڑے کے ایک بڑے سے تھیلے کی طرف جھکا اپنے ہاتھوں سے کوڑے کی تلاشی لے رہا ہے-

37 سالہ Antonio Flores کوئلے کے ڈھیر، پرانے بلب اور ٹن کے ڈبوں کو علیحدہ علیحدہ کر رہا ہے اور ان پرانی چیزوں میں سے ایسی بدبو فضا میں پھیل رہی ہے، جس سے دماغ پھٹا جا رہا ہے۔

Antonio Flores کہ رہا ہے ’ میں کوڑے کے اس ڈھیر میں سے ایک ایک چیز الگ کر رہا ہوں۔ شیشہ، پلا سٹک، اور بوتلیں میں ایک طرف رکھ رہاہوں، ہر وہ چیز جو دوبارہ استعمال میں لائی جا سکے۔ انہیں میں کسی ’بروکر‘ کے ہاتھ بیچوں گا۔ وہ ان کا وزن کرے گا۔ ٹن کے ڈبوں کے مجھے 5 سینٹ ملیں گے، پلاسٹک اور بوتلوں کے 20 سینٹ فی اکائی ، پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑوں کے لئےمجھے ایک چوتھائی سینٹ مل جائے گا‘۔

Junge sucht auf einer Müllkippe in Manila nach Verwertbarem

منیلا میں کوڑے کے ڈھیر کی تلاشی لیتا ہوا ایک کم سن بچہ

Antonio Flores ایک دن میں 150 ’پیسوس‘ یعنی تقریباً 2 یورو کما لیتا ہے۔ ان سے اُسے اپنی بیوی اور پانچ بچوں کا پیٹ پالنا ہوتا ہے۔ تاہم یہ کام کرتے کرتے Antonio Flores ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اب وہ نہایت کمزور نظر آتا ہے۔ اسے فکر اپنی بڑی بیٹی کی ہے، جو ہمیشہ کوڑے کے ڈھیر سے سامان الگ کرنے میں اُس کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ آج وہ یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ اُسے تیز بخار ہے۔ وہ فکر مند لہجے میں کہ رہا ہے ’ میری بیٹی ’روخیلے‘ گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل بیمار ہے۔ ہم سب کا انجام موت ہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی کو یہ بیماری کہاں سے لگی۔ شاید مجھ سے ہی لگی ہو۔ جب وہ بیمار ہوتی ہے تو مجھے یہ کام زیادہ کرنا پڑتا ہے‘۔

منیلا کے’ اسموکی ماؤنٹینز‘ کے احاطے میں اس وقت کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر کام کرنے والے 3000 کارکن رہتے ہیں۔ 80 کے عشرے میں ان کی تعداد 30 ہزار تھی۔ اس زمانے میں اس جگہ کوڑے کرکٹ کا انبار 40 میٹر اونچا ہو گیا تھا اور اس طرح ان اسموکی ماؤنٹینز کا شمار منیلا کی امتیازی علامات میں ہونے لگا تھا، جو عین منیلا کی خلیج پر واقع ہے۔ یہاں سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو یہ دور سے نظر آتا تھا۔ فلپائن حکومت کو احساس ہوا کہ یہ تو منیلا شہر کے امیج کو نقصان پہنچا رہا ہے چنانچہ اُس نے کوڑے کے اس ڈھیر کو منیلا کے ایک دوسرے کنارے ’پایاتاس‘ منتقل کر دیا۔ وہاں آج کل 60 ہزار افراد کوڑے کرکٹ کے انبار کے آس پاس زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس جگہ Doctors for the third world نامی تنظیم نے ایک کلینک قائم کیا ہے۔ یہاں ٹی بی کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور بچوں اور ان کی ماؤں کو یہاں روزانہ کھانا ملتا ہے۔

Armut Philippinen Manila Armenspeise

منیلا میں غریب بچوں کو کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے

فلپا ئن کی حکومت نے غریب باشندوں کے لئے ہیلتھ انشورنس کی ممبر شپ معاف کر دی ہے تاہم جو باشندے کسی سرکاری ادارے کے ملازم نہیں بلکہ خود مختار طریقے سے کام کرتے ہیں، ان سے 1200 ’پیسوس‘ سالانہ فیس لی جاتی ہے، جو 18 یورو کے برابر ہے اور کوئی بھی اس کی ادائیگی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے پیش نظر حکومت نے تمام غریب شہریوں کو بلا معاوضہ ہیلتھ انشورنس کارڈ جاری کرنے کا وعدہ کیا تاہم اب تک کسی ایک کو بھی یہ کارڈ نہیں دیا گیا ہے۔ اس وقت بغیر انشورنس والے فلپینی باشندوں کی کل تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ عالمی بینک سے منسلک ایک ماہر صحت Eduardo Banzon نے منیلا حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک کے غریب عوام کی شناخت کی ذمہ داری خود سنبھالے-

رپورٹ: کشور مصطفےٰ

ادارت: امجد علی