1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منیلا کا کچرا فیشن بن گیا

منیلا میں کچرے سے بنائی جانے والی مصنوعات اب دنیا بھر میں مشہور ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل شائد ہی کسی نے سوچا ہو کہ وہ فیشن کے طور پر کچرے کی مصنوعات استعمال کرے گا۔

default

دنیا بھر میں فیشن اور جاذب نظر آنے کے لئے ہمیشہ سے لوگ بہترین اورمہنگی اشیا کی خریداری کی کوششیں کرتے آئے ہیں۔ لیکن فیشن کی دنیا میں پہلے کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ لوگوں نے کسی ایسی چیز کو بطور فیشن خریدا ہو جوکچرے کے ڈھیر سے اٹھائی گئی ہو۔ لیکن آج منیلا میں بسنے والی ایک کچی آبادی کے مکینوں نے کچھ ایسا بنا دیا ہے جو لندن کے بازاروں میں بطور فیشن آٹم کے خریدا جارہا ہے۔

فلپائن کے دارلحکومت منیلا کے نواح میں جہاں شہر بھر کا کوڑا کرکٹ جمع کیا جاتا ہے، وہاں قریبی آبادی کے غریب لوگوں کا کام یہی ہوتا تھا کہ وہ اس ڈھیر سے کچھ ایسی چیزیں چن لیں جنہیں بیچ کر وہ کچھ پیسوں کا انتظام کرسکیں۔

لیکن اب وہ اپنی چھوٹے گھروں میں بیٹھے، اس ڈھیر سے اٹھائی ہوئی خالی ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوبز سے لیڈیز بیگ بنارہے ہیں۔ علاقے کی ان خواتین کی دوسری مصنوعات میں ایسے ٹیڈی بیئرز بھی شامل ہیں ، جو کوڑے کے ڈھیر سے اٹھائے گئے، قدرے بہتر کپڑے سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی ان کی زندگی میں تب آئی جب ایک برطانوی خاتون جین واکر، جس نے 1996ء میں اپنا پرتعیش طرززندگی ترک کرکے فلپائن میں غریبوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔ Philippine Christian Foundation پی سی ایف کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والی واکر کا کہنا ہے کہ اس قدم سے انہوں نے کوشش کی کہ ان غریب لوگوں کو بہتر زندگی کی ایک راہ دکھائی جاسکے۔

New Orleans 100 Tage nach dem Hurrikan

فلپائن کے دارلحکومت منیلا کے نواح میں جہاں شہر بھر کا کوڑا کرکٹ جمع کیا جاتا ہے

اس مقصد کے حصول کے لئے کچی آبادی کی خواتین کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ اس کوڑے کے ڈھیر کوبھی بہتر انداز سے استعمال کرسکتی ہیں۔ یوں انہوں نے پہلے ٹیسٹ کیس کے طور پر،ٹوتھ پسٹ کی خالی ٹیوبز سے بنائے گئے لیڈیز بیگ اور اسی طرح کی چند اورچیزیں بھی بنائیں۔ واکر کے مطابق 200 بیگ کی ایک کھیپ لندن روانہ کی گئی جو کہ وہاں کے بازاروں میں بہت پسند کی گئی۔

صرف اتنا ہی نہیں واکر کی کوششوں سے، کوڑا اگلتے اس پہاڑ کے اوٹ میں چھپی آبادی کے لوگوں کو اب ایک سکول بھی میسر ہے، جہاں ان کے بچے آنے والی زندگی کے بارے میں اچھے خواب دیکھ سکتے ہیں۔ اسی آبادی سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی خاتون کا کہنا تھا کہ واکر کی ان بے پایاں کوششوں کے بعد اب انہیں محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں شائد، بدبو کے اس چنگل سے نکل جائیں گی۔

لندن بھیجے گئے یہ بیگز100 پونڈ فی کس کے حساب سے فروخت ہوئے ۔ واکر کی اس فلاحی تنظیم نے پہلے مرحلے میں باقاعدہ طور پر 40 خاندانوں کو ملازمت فراہم کی۔ اوراب وہ پہلے کے تناسب سے زیادہ کما رہے ہیں۔ واکر کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ روزگار اتنا مستقل نہیں بھی ہوسکتا لیکن جس جذبے کے ساتھ ان لوگوں نے غربت کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے، وہ بہت مظبوط ہے۔

رپورٹ: عبدالرؤف انجم

ادارت: عاطف بلوچ