1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’منگیتر ویزا پروگرام‘ کا سختی سے جائزہ لیا جائے: اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ایک غیر معمولی عوامی خطاب میں دہشت گردی کے ایک نئے دور پر قابو پانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کو دہشت گردی اور اسلام کی جنگ نہیں سمجھنا چاہیے۔

امریکی صدر نے اتوار کی شام وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے اس نئے دور میں امریکا سمیت دنیا بھر میں انسانوں کے ذہنوں کو خراب کرنے اُن میں زہر بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اوباما نے کہا ہے کہ اس صورتحال سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ، ’آزادی خوف سے کہیں زیادہ طاقتور ہے‘۔

اتوار کی شب امریکی صدر کا یہ خطاب گزشتہ ہفتے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہونے والے دہشت گردی کے واقع کے تناظر میں تھا۔ گزشتہ بُدھ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ایک چرچ میں معذور افراد کی ایک تقریب میں شرکاء پر ایک پاکستانی نژاد جوڑے نے فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک اور 21 کو زخمی کر دیا تھا۔

اوباما نے اپنے خطاب میں کہا،’’ مجھے معلوم ہے کہ اتنی زیادہ جنگ و جدل کے بعد بہت سے امریکی یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ہم کسی ایسے سرطان کا شکار ہو گئے ہیں جس کا کوئی فوری علاج ممکن نہیں ہے؟‘‘۔ اوباما کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات حقیقی ہیں تاہم امریکا اس سے نمٹ لے گا۔

اپنے 13 منٹ کے دورانیے کے خطاب میں اوباما نے کہا کہ گو کیلیفورنیا میں فائرنگ کرنے والے جوڑے کے براہ راست کسی دہشت گردانہ تنظیم سے تعلق کے شواہد نہیں ملے ہیں اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ حملہ کسی غیر ملکی دہشت گرد نیٹ ورک کی طرف سے کسی بڑے حملے کی تیاری کا حصہ تھا تاہم ’حملہ آور جوڑا انتہا پسندی کے سیاہ رستے پر چل پڑا تھا‘۔

امریکی صدر نے کہا، ’’اگر ہم دہشت گردی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہمیں مسلم برادری کو اپنے مضبوط ترین اتحادیوں کے طور پر ساتھ رکھنا ہوگا اورانہیں شکوک و شبہات اور نفرت کا شکار بنا کر الگ تھلگ نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ اوباما نے کہا ہے کہ امریکی عوام کا اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف ہو جانا دراصل داعش کے شدت پسندوں کے مقاصد کا حصول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’داعش، اسلام کی ترجمان نہیں اور امریکا اس شدت پسند تنظیم سے لڑنے کے لیے اپنی ہر ممکن طاقت استعمال کرے گا۔

اوباما نے اپنے اس خطاب کے لیے ایک پرائم ٹائم کا انتخاب کیا تھا جسے آئندہ امریکی صدارتی انتخابات کے تناظر میں ایک اہم حکمت عملی قراردیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اوباما کے ناقدین اُن کے بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ اوباما نے داعش کے خلاف جنگ میں امریکی حکمت عملی میں کسی خاص تبدیلی کی نشاندہی نہیں کی ہے۔

اوباما نے نجی کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین باہمی تعاون پر زور دیا ہے تاکہ ممکنہ حملہ آور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل نہ کر سکیں۔

امریکی صدر اوباما نے امریکا میں انتہاپسندی کی جانب مائل ہونے والے افراد کے لیے اسلحے کے حصول کو مشکل بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے فرد کے لیے اسلحے کی خریداری مشکل بنا دے جس کا نام ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل ہو۔

اوباما نے محکمۂ خارجہ اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کو ’فیانسی ویزے‘ یا منگیتر کے ویزے پر امریکا آنے والے افراد کی اسکریننگ کا عمل سخت کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔ کیلیفورنیا میں فائرنگ کے دہشت گردانہ واقعے میں ملوث خاتون تاشقین بھی غالباً اسی ویزے کے ذریعے امریکا پہنچی تھی۔