1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منگولیا کے وزیر گنسوکھ لوئمڈ جرمنی میں

منگولیا کے وزیر برائے سیاحت اور ماحولیات "گنسوکھ لوئمڈ " آج کل جرمنی کے دورے پر ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے ایک بڑے ملک منگولیا کی آبادی تو اگرچہ کم ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں کے لوگوں کو مسائل کا سامنا نہیں۔

default

منگولیا کے وزیر برائے سیاحت اور ماحولیات گنسوکھ لوئمڈ نے گزشتہ دنوں ڈوئچے ویلے کا دورہ کیا

منگولیا کے وزیر برائے سیاحت اور ماحو لیات"گنسوکھ لوئمڈ " کہتے ہیں، انہیں امید ہے کہ ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے غرض سے وہ جرمنی کے اقدامات سے بھرپور فائدہ حاصل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نظر میں رکھتے ہوئے اپنی پالیسی بنا رہے ہیں۔ ان کے بقول جرمنی جنگلات کی دیکھ بھال کے حوالے سے کافی تجر رکھتا ہے اور یہاں بڑی مشکل سے آئندہ سو سالوں کے لئے ایک ماڈل تیار کیاگیا ہے۔ جرمنی میں اس حوالے سے تحقیق بھی ہوئی ہے اور وہ منگولیا میں اس پرعمل کریں گے۔

"گنسوکھ لوئمڈ "نے اعتراف کیا کہ منگولیا کو ابھی بھی ماحولیات سے متعلق بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ منگولیا میں بینادی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے ماحولیات اور پانی کے مسائل حل کرنے میں بھی وقت لگے گا حتیٰ کہ دارالحکومت " اولن باٹر" میں بھی نکاسی آب کا انتظام نہیں ہے۔ لوئمڈ کے بقول منگولیا سطح سمندر سے ڈیڑہزار میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ ملک ماحولیات میں تبدیلی سے بہت زیادہ متاثر ہواہے۔

منگولین وزیر کے مطابق انہی وجوہات کی بناء پر 70 فیصد علاقہ قابل کاشت نہیں رہا۔ صرف ماحولیات ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہا ں بہت سے لوگوں کا انحصار گلہ بانی پر ہے اوراب ان کے بھیڑوں کے لئے چارا ملنے میں بھی دشواری ہے۔

اس ملک کا ایک اور بڑا مسئلہ کان کنی ہے۔ یہ صنعت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کر لے گی کیونکہ یہاں کوئلے، تانبے، سونے اور یورینیم کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ غیر قانونی طور پر سونے کا کام کرنے والےجنہیں "ننجاز" بھی کہا جاتا ہے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔ "گنسوکھ لوئمڈ " بھی ان تحفظات کو مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے نیا قانون بنایا گیا ہے، جس کے رو سے چھوٹے پیمانے پر سونے کے ایسے کاروبار کی اجازت نہیں دی جا ئے گی جس سے ماحولیات پر خراب اثر پڑتا ہو۔

رپورٹ:بخت زمان

ادارت : عدنا ن اسحاق