1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’منٹو آج بھی زندہ ہے‘

سعادت حسن منٹو اردو کے ان افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی تحریریں ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ گیارہ مئی سن 1912 کو پیدا ہوئے جبکہ کا انتقال 18 جنوری 1955ء کو صرف 42 برس کی عمر میں ہوا۔

Saadat Hasan Manto

اپنے انتقال کے ساٹھ برس سے زائد کے عرصے بعد بھی یہ صاحب طرز نثرنگار اپنی تحریروں میں زندہ ہے

منٹو کے افسانے نہ صرف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں بلکہ ان کی سبھی تحریریں بشمول افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے حامل ہیں۔ ضلع لدھیانہ میں پید ہونے والے منٹو سن 1947 میں تقیسم ہند کے بعد پاکستانی شہر لاہور منتقل ہو گئے۔

پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی آج بروز گیارہ مئی ان کے 104 ویں یوم پیدائش کے موقع پر کئی یادگاری تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی انہیں خراچ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

منٹو کی ادبی تخلیقات کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے دیکھی بھالی اور جانی پہچانی دنیا میں ہی ایک ایسی دنیا دریافت کی، جسے لوگ درخوراعتناء نہیں سمجھتے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ گمراہ لوگوں کی دنیا ہے، ایسے لوگوں کی، جو مروجہ اخلاقی نظام سے ماورا اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے۔ ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔

یہی لوگ منٹو کی تخلیقات کا موضوع بھی تھے۔ اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی، جسے نئی طرز کی افسانہ نگاری کی جانب پہلا قدم قرار دیا گیا۔ سعادت حسن منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہوتے تھے بلکہ ان افسانوں کےماحول اورکرداروں میں تیسری دنیا کے پسماندہ معاشروں کے تضادات کی داستانیں بھی ہوتی تھیں۔

سعادت حسن منٹو11 مئی 1912ء کو لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد غلام حسن منٹو کشمیری تھے، جو امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ منٹو کےدوست اور سوانح نگار ابو سعید قریشی کے مطابق سعادت حسن بچپن ہی سے کھلنڈرے اور شرارتی قسم کے لڑکے تھے، جو اپنے دوستوں کو چونکانے کے لیے غیر معمولی شرارتیں کیا کرتے تھے۔

سعادت حسن کے دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔عادت حسن منٹو اپنےگھر میں ایک سہما ہوا بچہ سمجھے جاتے تھے۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے وہ اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتے تھے البتہ ان کی والدہ ان کی طرفداری کرتی تھیں۔

ان حالات میں سعادت حسن منٹو کو اپنی اصل شخصیت کے اظہار کا موقع اپنے علاقے کے گلی کوچوں میں ملتا۔ وہ ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ اسی لیے ان کا تعلیمی کیریئر بھی حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931ء میں یہ امتحان پاس کیا۔

ان کی سوچ اور زندگی میں ایک نیا باب اس وقت شروع ہوا، جب 1933ء میں اکیس برس کی عمر میں امرتسر میں ہی ان کی ملاقات عبدالباری علیگ سے ہوئی، جو اس وقت کے ایک معروف سکالر اور رائٹر تھے۔

عبدالباری علیگ نے منٹو کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنے اندر کے ادیب کو پہچاننے اور روسی اور فرانسیسی ادیبوں کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔

منٹو نے شروع میں ترقی پسند نظریات کے حامل افسانے لکھے، جس کے بعد ان کے اسلوب اور تخلیق میں مسلسل نکھار آتا گیا اور پھر ان کی ہر تحریر آنے والے وقت کا ادبی معیار بنتی گئی۔ منٹو کے شہرہٴ آفاق افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور کالی شلوار جیسی بہت سی تخلیقات شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے، خاکے اور ڈرامے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

منٹو کی تحریریں برصغیر کی تقسیم سے وابستہ موضوعات کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ منٹو بر صغیر کی تقسیم کے بعد بھارت میں ممبئی سے پاکستان آ کر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال گزارے۔

کثرت شراب نوشی کی وجہ سے لاہور ہی میں ان کا انتقال 18جنوری 1955ء کو صرف بیالیس سال کی عمر میں ہوا۔ یوں آج منٹو کو اس دنیا اور اپنے مداحوں سے رخصت ہوئے اکسٹھ برس ہو گئے ہیں۔

منٹو کی تحریریں آج بھی دنیا کو اس عظیم مصنف کی باریک بین آنکھ اور ان کے خیالات و مشاہدات سے متعارف کراتی ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک دنیا میں اردو زبان لکھی، پڑھی اور بولی جاتی رہے گی۔