1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

منقسم یورپ پناہ گزینوں کا بحران حل کرنے میں ناکام؟

یورپی یونین کے رہنماؤں کے برسلز میں منعقدہ دو روزہ سربراہی اجلاس میں مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے طریقہٴ کار پر یورپی ممالک کی تقسیم کھل کر دکھائی دی اور کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

اب اس موضوع پر یورپی یونین اور ترکی کے مابین ایک خصوصی سمٹ مارچ کے اوائل میں منعقد کی جائے گی۔ جرمنی اس بحران کے حل کے لیے تمام تر امیدیں ترکی سے وابستہ کیے ہوئے ہے۔

اس سربراہ کانفرنس میں کوئی اتفاقِ رائے کیوں عمل میں نہیں آ سکا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سمٹ میں ترکی کی شمولیت بہت ضروری تھی لیکن وہاں ایک ہولناک خود کُش بم حملے کے بعد ترک وزیر اعظم احمد داؤد اولُو نے اس سمٹ میں اپنی شرکت منسوخ کر دی تھی۔

لاکھوں مہاجرین یورپ بھیج دیں گے، ایردوآن کی دھمکی

جرمنی سے مایوس پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی

یورپی یونین کی گزشتہ برس منعقدہ ایک سمٹ میں انقرہ حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ وہ مہاجرین کو یورپ میں داخل ہونے سے روکنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔ بدلے میں یونین نے ترکی کو تین بلین یورو کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

یورپی رہنما دراصل جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ ترکی کے ساتھ طے کردہ اقدامات مہاجرین کے سیلاب کو روکنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ مجوزہ خصوصی سمٹ اب پانچ یا سات مارچ کو منعقد کی جا سکتی ہے۔

میرکل کا موقف، حمایت اور مخالفت

اس بحران کے حوالے سے یورپی یونین کے اندر دو گروپ بن چکے ہیں۔ ایک گروپ اُن ملکوں کا ہے، جو چیکنگ کا نظام بحال کرتے ہوئے اپنی سرحدیں مہاجرین کے لیے بند کر چکے ہیں یا عنقریب کرنے والے ہیں۔

Flüchtlinge mit Behinderung auf dem Weg nach Europa

تارکین وطن کو روکنے کے لیے کئی یورپی ممالک نے اپنی سرحدیں بند کر رکھی ہیں

دوسرے گروپ کی نمائندگی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کر رہی ہیں۔ میرکل کے خیال میں اندرونی سرحدوں پر پھر سے چیکنگ شروع کرنے سے اَشیاء اور انسانوں کی آمد و رفت کی وہ آزادی متاثر ہو گی، جس پر یورپی ملک بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔

میرکل کی تجویز یہ ہے کہ اندرونی سرحدیں بند کرنے کی بجائے پوری توجہ یونین کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت پر مرکوز کی جائے اور اس سلسلے میں ترکی اور یونان سے تعاون حاصل کیا جائے کیونکہ بحیرہٴ ایجیئن کو عبور کرتے ہوئے اب بھی ہزاروں مہاجرین ترکی سے یونان پہنچ رہے ہیں۔

آسٹریا اور ڈنمارک کے متنازعہ فیصلے

جرمنی سمیت سرکردہ یورپی ممالک آسٹریا سے اس لیے ناخوش ہیں کیونکہ اُس نے عین اس سمٹ کے موقع پر یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ روزانہ صرف بتیس سو مہاجرین کو سرحد عبور کر کے آسٹریا میں داخل ہونے دیا جائے گا اور سیاسی پناہ کی صرف اَسّی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔

جرمنی کی کوشش ہے کہ رکن ملک اس طرح کے انفرادی حل متعارف کروانے کی بجائے اس مسئلے کا کوئی مشترکہ حل تلاش کریں۔ آسٹریا نے لیکن اس تمام تر تنقید کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے اعلان پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا ہے۔ ڈنمارک نے بھی مہاجرین کو اپنی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ڈنمارک کا رخ کرنے والے تمام مسافروں کی سفری دستاویزات کی پڑتال شروع کر رکھی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شُلس نے یورپی سربراہوں سے خطاب کے دوران موجودہ صورت حال کو یوں بیان کیا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہر ملک انفرادی نقطہٴ نظر سے اس معاملے کو دیکھ رہا ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ کوئی دوسرا ملک اسے حل کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھائے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران نے یونین کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘‘

DW.COM