1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منقسم قبرص میں سینکڑوں متروکہ کاروں کے مالکوں کی تلاش

قبرص کی تپتی دھوپ میں سینکڑوں پرانی کاریں، موٹر سائیکلیں اور بسیں گزشتہ چار دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے اس منقسم ریاست کی اُس سرحد پر غلط جانب پارک ہیں، جو اُس وقت موجود ہی نہیں تھی، جب انہیں وہاں کھڑا کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ 400 کے قریب ایسی گاڑیاں ہیں، جو ترک قبرصی مالکوں کی طرف سے اکروتیری پر 1974ء میں ترکی کے حملے کے بعد چھوڑ دی گئی تھیں۔ اکروتیری قبرص میں قائم برطانیہ کے دو میں سے ایک فوجی اڈہ ہے۔ ترک فوج کے حملے کا نتیجہ اس جزیرے کی تقسیم کی صور ت میں نکلا تھا۔

قبرص کے اتحاد کی کئی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ان گاڑیوں کو ان کے اصل مالکان تک پہنچانے کے لیے ایک کوشش شروع کی گئی ہے۔ ایک برطانوی فوجی ایان بریشا کے مطابق، ’’ہمیں ان کاروں کے سلسلے میں اب کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ یہ یہاں مزید 42 برس کھڑی نہیں رہ سکتیں۔‘‘ بریشا نے گزشتہ برس اس منصوبے کو شروع کرنے میں مدد کی تھی۔

بریشا نے ہر ایک ماڈل کی مختصر تفصیل مرتب کرنے اور ممکنہ خریداروں کے لیے گیلری بنانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان تفصیلات کو اکروتیری اور ڈھکیلیا رائل ایئر فورس بیسز کی سرکاری ویب سائٹس پر شائع کیا گیا ہے۔ 1960ء میں قبرص کی آزادی کے بعد بھی برطانیہ نے ان دونوں بیسز کا قبضہ اپنے پاس رکھا تھا۔

ابھی تک اس منصوبے کی مدد سے کوئی ایک بھی گاڑی اپنے اصل مالک تک نہیں پہنچی تاہم بریشا کا کہنا ہے کہ کم از کم ان کا یہ پراجیکٹ اُن تُرک قبرصی باشندوں کو ان کے ماضی کی ایک جھلک ضرور دکھاتا ہے، جو ان کاروں کی ملکیت کے اصل دعوے دار ہیں۔

قبرص اگست 1974ء سے منقسم ہے، جب ترک فورسز نے یونان کی حمایت سے ہونے والی ایک فوجی بغاوت کے بعد اس جزیرے کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا تھا

قبرص اگست 1974ء سے منقسم ہے، جب ترک فورسز نے یونان کی حمایت سے ہونے والی ایک فوجی بغاوت کے بعد اس جزیرے کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا تھا

بریشا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’کچھ وقت قبل ہی ایک صاحب یہاں آئے تھے... وہ چھ بسیں لینے میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘‘ بریشا کا مزید کہنا تھا، ’’وہ کافی جذباتی ہو گئے تھے۔‘‘

چار دہائیوں سے پارک شُدہ ان میں سے زیادہ تر گاڑیاں قابل استعمال نہیں رہیں، خاص طور پر 1991ء میں یہاں لگنے والی ایک آگ نے ان گاڑیوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم بریشا کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’آپ یہاں بہت سی گاڑیاں دیکھ رہے ہیں مگر آپ یہاں بچوں کے کھلونے بھی دیکھ سکتے ہیں... اب کسی نہ کسی کو ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہو گا۔‘‘

قبرص اگست 1974ء سے منقسم ہے، جب ترک فورسز نے یونان کی حمایت سے ہونے والی ایک فوجی بغاوت کے بعد اس جزیرے کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس بغاوت کا مقصد قبرص کا یونان کے ساتھ اتحاد تھا۔ طویل عرصے کے تعطل کے بعد اقوام متحدہ کی کوششوں سے مئی 2015ء سے امن مذاکرات بحال ہوئے تھے، جنہیں قبرص کے اتحاد کے لیے ایک امید قرار دیا جاتا ہے۔ اُس وقت کے بعد سے مذاکراتی عمل میں شریک رہنما با قاعدگی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

برطانوی فوجیوں کی طرف سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے کے بعد سے اب تک قریب 20 افراد نے رابطہ کیا ہے اور اپنی گاڑیاں واپس حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اب ان افراد کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہی متعلقہ گاڑیوں کے اصل مالک ہیں اور پھر ان گاڑیوں کی منتقلی پر اٹھنے والے اخراجات ادا کر کے وہ اپنی گاڑیاں حاصل کر سکیں گے۔