1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

منقسم عراق میں مذہبی تنوع کا ایک مثالی اسکول

عراق میں کُرد، عرب اور ترکمن بچے ایک ہی کلاس میں اکٹھا بیٹھتے ہیں، جہاں اسلامی اور مسیحی تعلیمات پر مشتمل ٹیکسٹ بُکس نصاب میں شامل ہیں۔

عراقی شہر کرکُوک میں قائم ’’مریمانہ اسکول‘‘ مذہبی، نسلی اور ثقافتی تنوع کی مثال سمجھی جانے والی اس عرب ریاست کا ایک منفرد تعلیمی مرکز ہے تاہم مختلف ثقافتوں اور نسلوں کے موزیک کی حیثیت رکھنے والے اس ملک کو بحران اور فرقہ وارانہ فسادات سے سخت خطرات لاحق ہیں۔

’’ مریمانہ اسکول‘‘ کی ہیڈ مسٹرس ذکیہ ماٹی داؤد کہتی ہیں،’’ مرکزی خیال ایک ایسے اسکول کا تھا جہاں مختلف نسلی اور مذہبی گروپوں سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم حاصل کر سکیں اور اس طرح ملک کو کشیدگی اور بحران سے بچایا جا سکے‘‘۔

اس اسکول کی بنیاد دراصل کرکُوک کے ایک چیلڈین کیتھولک چرچ کے آرچ بشپ لوئس ساکو کے تصور پر رکھی گئی تھی۔ 2012 ء میں اس اسکول کا افتتاح ہوا تھا اور اُس وقت تک وہ کرکُوک کے آرچ بشپ تھے۔

Irak Initiative Nachhilfe für arme Kinder aus Bagdad

عراقی بچوں کی تعلیم کے لیے بہت سے عیر ملکی پروجیکٹس بھی شروع کیے گئے ہیں

اس اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کی تعداد اب تین گنا ہو کر 150 ہو گئی ہے ان میں 6 سے 12 سال کی درمیانی عمر کے 100 مسلمان اور 50 مسیحی بچے شامل ہیں۔

حمزہ کی عمر 9 سال ہے۔ ایک صاف ستھری سفید شرٹ اور سرُخ ٹائی میں ملبوس یہ طالب علم کہتا ہے،’’ مجھے اپنا اسکول بہت پسند ہے کیونکہ میں یہاں بُہت کُچھ سیکھ رہا ہوں‘‘۔

اس اسکول کے اساتذہ کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ معاشرے کو مخلوط بنانے کی ترغیب دلا رہے ہیں اور نسلی اور صنفی بنیادوں پر معاشرے کی علیحدہ علیحدہ تقسیم کے خلاف سرگرم ہیں۔

’’ مریمانہ اسکول‘‘ کی ہیڈ مسٹرس ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والی ایک سسٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں،’’ بچے اکٹھا اسکول جاتے ہیں، ان کی دوستیاں ہو جاتی ہیں، یہاں تک کے ان کے والدین میں بھی تعلقات استوار ہو جاتے ہیں‘‘۔

بہت سے والدین اپنے بچوں کو اسی اسکول میں بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ عراق کے شہر کرکُوک میں واقع ہے جو ثقافتی اور نسلی اعتبار سے مخلوط اور مرکب ہونے کی مثال مانا جاتا ہے۔

Neues Schul- und Studienjahr im Irak

عراق کسی زمانے میں تعلیم کی شرح کے اعتبار سے عرب ممالک میں کافی آگے تھا

عراق میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک فرانسیسی غیر سرکاری تنظیم کے چیئرمین فراج بینوئے کامورات کے بقول،’’ یہ اسکول پائیدار امن کی تعمیر کا ایک ٹھوس طریقہ تھا۔ اس اسکول کی کامیابی اس امر کی نشاندہی ہے کہ کرکُوک کے بہت سے شہری یہ نہیں چاہتے کے ان کا شہر نسلی اور فرقہ وارانہ تفرقوں میں تقسیم ہو‘‘۔

’’ مریمانہ اسکول‘‘ کے پروجیکٹ کو اس گروپ کا بھی تعاون حاصل ہے۔ کرکُوک تیل جیسے اہم قدرتی ذخیرے سے مالامال شہر ہے اور یہ بغداد میں وفاقی حکام کی طرف سے متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ بغداد اور شمال میں کُرد خود مختار علاقے کے درمیان واقع ہے۔ کرکُوک عربوں، کردوں، سنیوں اور شیعوں کے برسرپیکار دھڑوں کا گڑھ بھی مانا جاتا ہے۔ یہاں آئے دن خونریز تصادم ہوتا رہتا ہے۔

’’ مریمانہ اسکول‘‘ کا پروجیکٹ 2011 ء میں لانچ ہوا تھا۔ یہ اس شہر کی تاریخ کے نسلی اور فرقہ ورانہ خونریز فسادات کا ایک اہم سال تھا تاہم اس کے باوجود اس شہر کے باشندوں میں مل جُل کر رہنے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی۔

DW.COM