1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

منظر پس منظر، دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیاب یا ناکام؟

زمینی حقائق کو دیکھ کر کم از کم یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ خود امریکہ میں بش انتظامیہ کو صرف عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کیے جانے والے اپنے اقدامات کا جواز ثابت کرنے کے لئے شدید چیلنجوں اور مشکلات کا سامناہے۔

صدر بش نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پوری شدت سے جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے

صدر بش نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پوری شدت سے جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے

بہت سے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ11 ستمبر کے واقعے نے دنیا کو سیاسی ، اجتماعی ، نفسیاتی اور نظریاتی اعتبار سے بدل کر رکھ دیا ہے۔گویا 9/11 کے بعدکے حالات نے انسانی معاشرے کو نئی ترجیحات اپنانے پر مجبور کر دیا ہے لیکن یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کسی تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بہتری اور کمال و ارتقا کی حامل بھی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ شائد آج کے عالمی سیاسی افق پر سب سے زیادہ یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا 11 ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کامیاب رہی یا ناکام؟ کیا آج 5 برس بعد دنیا دہشت گردوں کے ہاتھوں زیادہ محفوظ ہے؟ یا پہلے کی نسبت اور زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔

خاص طور سے امریکی معاشرے میں یہ سوال اپنی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں ہر ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا آج کا امریکی معاشرہ 5برس پہلے کے امریکی معاشرے کی نسبت زیادہ محفوظ ہے؟ کیا عراق اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جو فوجی کاروائی کی گئی ہے، اس کا جواز پیش کیا جا سکاہے؟ کیا اس قسم کے اقدامات مسلمان دنیا میں امریکہ اور مغرب کے خلاف اور زیادہ نفرت کا باعث اور اسلامی شدت پسندی کو ہوا دینے کا سبب بنے ہیں؟

زمینی حقائق کو دیکھ کر کم از کم یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ خود امریکہ میں بش انتظامیہ کو صرف عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کیے جانے والے اپنے اقدامات کا جواز ثابت کرنے کے لئے شدید چیلنجوں اور مشکلات کا سامناہے۔

خاص طور پر اس لئے بھی کہ یہ مسئلہ اب امریکہ میں دونوں بڑی جماعتوں ریپلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کے سیاسی مستقبل سے جڑ چکا ہے۔جس کا ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ اصل حقائق کو محض سیاسی مصلحتوں پر قربان کیا جا رہا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی معاشرہ سیاسی لحاظ سے کبھی بھی اس حد تک تقسیم نہیں ہوا تھا جتنا اب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 9/11 کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر صدر بش کی تقریر کو ان کے سیاسی مخالفین نے سخت ہدف تنقید بنایا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ ایک قومی دن کو ایک غیر ضروری جنگ کا جوازثابت کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

اس بات سے قطع نظر کہ امریکہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں کس حد تک حق بجانب ہے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے امریکہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔جس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج پانچ برس گزرنے کے باوجود امریکہ نہ تو عراق کے ساتھ القاعدہ کے ارتبا ط کو ثابت کر سکا ہے اور نہ ہی وہاں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا سراغ ملا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ عراق پر امریکی حملے کے بعد سے اب تک کم از کم ایک لاکھ افرادمزاحمت کاروں یا امریکی فوجی کاروائی میں ہلاک ہو چکے ہیں اور ہر روز خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے ہولناک واقعات رونما ہو ررہے ہیں۔جبکہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا کسی کو بھی اندازہ نہیںہے۔

یہاں تک کہ اب یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ 11ستمبر کے بعد دنیا میں دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیںاتنے کبھی نہیں ہوئے۔ لندن، میڈریٹ، امان، استنبول، ریاض اورجدہ سے لے کر کراچی اور کراچی سے بالی اور جکارتا تک ریسٹورانوں، ہوٹلوں، نائٹ کلبوں، ترین اسٹیشنوں اور مختلف عمارتوں میں ہونے والے دہشت پسندانہ حملوں کو دیکھ کر اس حقیقت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا پہلے سے زیادہ بد امنی کا شکار ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی اپنے تازہ ترین بیان میں بھی کہا ہے کہ عراق پر امریکی حملے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے اور صورتحال تباہ کن ہو گئی ہے۔

بش انتظامیہ کو صرف اسی حوالے سے اعتراضات کا سامنا نہیں ہے بلکہ عراق میں امریکی فوجیوں کی اخلاقی لحاظ سے بدنامی،دہشت گردی کے نام پر ماوراءعدالت گرفتاریوں ، گوانٹانامو جیسے عقوبت خانوں سے متعلق ناقابل یقین خبروں، CIAکے خفیہ جیل خانوں کے انکشاف اور القاعدہ جیسی دہشت گر د تنظیموں کو وجود میں لانے میں امریکی کردار کے منظر عام پر آنے سے امریکہ کی ساکھ بری طرح متا ثر ہوئی ہے۔

پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے بھی برسلز میںیورپی پارلیمنٹ سے اپنے حالیہ خطاب میںطالبان کو وجود میں لانے میں امریکہ اور مغربی ممالک کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:جب میں کہتا ہوں ہم، تو اس کا مطلب ہے ،امریکہ ،مغرب اور پاکستان نے مل کر روس کے خلاف طالبان کی تربیت کی ، ان کو مسلح کیا اور انہیں وہاں پر بھیجا۔

ان حالات اور نتائج کی وجہ سے اب یہ مطالبہ بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے صرف فوجی راستہ کافی نہیں ہے بلکہ اس کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی بنیادوں پر بھی غور کرنا پڑے گا اورامریکہ کو یہ جنگ جیتنے کے لئے اپنی اخلاقی برتری بھی ثابت کرنا ہو گی۔

پاکستان میں ادارہ تحقیق و تعلیم کے چیئر مین خورشید احمد ندیم کا جہاں یہ خیال ہے کہ امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی وہاں ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس حوالے سے اپنی اخلاقی برتری کو بھی ثابت کرنا ہو گا۔

جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے وہاں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نئے عالمی حالات میں مسلمان دنیا میں جدیدیت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے ، اسلام کی روائتی تعبیر کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے، اسلام کو کسی ایک تعبیر میں ہی منحصر نہ کرنے اور عالمی برادری سے الگ تھلگ رہ کر زندگی نہ گزارنے کا شعور بھی بیدار ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہل نظر کا کہنا ہے کہ اسلام کی روائتی اور انتہا پسندانہ تفسیر وتعبیر کے حامل علما کو جتنا اس دور میں جدید اسلامی فکر کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اتنا کسی دور میں نہیں کرنا پڑا۔